
خلیج اردو
واشنگٹن/یروشلم – اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی کارروائیوں پر اب تک 46.5 ارب ڈالر کا دفاعی بجٹ خرچ کر دیا ہے۔ ایک امریکی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ رقم اسرائیلی دفاعی تاریخ کے سب سے بڑے اخراجات میں شمار ہوتی ہے، جس میں بڑی تعداد میں فضائی حملے، زمینی آپریشنز اور اسلحہ سازی شامل ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو ان اخراجات کے لیے سب سے زیادہ مالی مدد امریکہ نے فراہم کی، جس نے اب مزید 510 ملین ڈالرز مالیت کے فوجی ہتھیار دینے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس فوجی امداد میں جدید بم گائیڈنس کٹس اور دیگر اسلحہ و سازوسامان شامل ہیں۔ محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس کا کہنا ہے کہ کانگریس کی منظوری کے فوری بعد اسرائیل کو ان ہتھیاروں کی فراہمی شروع کر دی جائے گی۔
ٹیمی بروس نے غزہ کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار حماس کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ تنظیم نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا ہے اور تاحال مغویوں کو اپنی حراست میں رکھا ہوا ہے۔ ان کے مطابق امریکا غزہ میں جنگ بندی (سیز فائر) کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، لیکن اسرائیل کی سلامتی کو ہر قیمت پر یقینی بنانے کی حمایت جاری رکھے گا۔
ادھر مشرق وسطیٰ کے حالات دن بہ دن مزید کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیل کے عسکری اخراجات اور امریکی حمایت پر سخت تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔







