متحدہ عرب امارات

یو اے ای: ’ائرپورٹ تھیوری‘ پر مسافر منقسم، کچھ 15 منٹ پہلے پہنچنے کے حامی، کچھ اسے خطرناک قرار دیتے ہیں

خلیج اردو
دبئی: حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ’ائرپورٹ تھیوری‘ نے سفری دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس نظریے کے مطابق مسافر صرف 15 سے 30 منٹ میں سیکیورٹی مراحل مکمل کرکے گیٹ تک پہنچ سکتے ہیں، لہٰذا پرواز سے تین گھنٹے پہلے ائیرپورٹ پہنچنے کی ضرورت نہیں۔ کچھ مسافر اس رجحان کے حامی ہیں تو کچھ اسے غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک قرار دے رہے ہیں۔

دبئی کے مسافر منصور علی کی حمایت

دبئی کے رہائشی 50 سالہ منصور علی، جنہوں نے 60 سے زائد ممالک کا سفر کیا ہے، اس رجحان کے پرجوش حامی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کئی بار صرف 30 منٹ قبل ائیرپورٹ پہنچے اور پھر بھی وقت پر پرواز پکڑ لی۔ انہوں نے بتایا، ’’مجھے ائیرپورٹ پر تین گھنٹے پہلے پہنچنا بالکل پسند نہیں۔ میں آن لائن چیک ان کرتا ہوں اور صرف ہینڈ کیری لے کر سفر کرتا ہوں۔ پچھلے 10 سالوں میں میں نے صرف دو پروازیں مس کی ہیں۔‘‘

منصور اب کبھی کبھار جلدی پہنچتے ہیں تاکہ لاؤنج میں آرام سے وقت گزار سکیں، لیکن ان کا ماننا ہے کہ کم وقت میں بھی ائیرپورٹ کارروائی مکمل کی جا سکتی ہے، خاص طور پر اگر بھیڑ کم ہو۔

ائیرلائنز اور حکام کی احتیاطی تنبیہات

دبئی ایئرپورٹس (DXB) نے اس رجحان پر ہلکے پھلکے انداز میں ایک ویڈیو جاری کی جس میں کہا گیا کہ ’’خطرہ مول لینے کے بجائے، گیٹ پر میچا انجوائے کریں۔‘‘ امارات ایئرلائن نے بھی گزشتہ ہفتے مشورہ دیا تھا کہ مصروف سفری اوقات میں تین گھنٹے پہلے پہنچنا بہتر ہے تاکہ ٹریفک اور بھیڑ سے بچا جا سکے۔

سوشل میڈیا صارفین کا تجربہ

دبئی کے ٹک ٹاکر سواج گیری نے بتایا کہ انہوں نے نادانستہ طور پر یہ تھیوری اس وقت آزمایی جب وہ نیپال سے واپس یو اے ای آ رہے تھے۔ ’’چیک اِن کاؤنٹر پر بتایا گیا کہ بورڈنگ بند ہونے والی ہے، میں دوڑا اور 15 منٹ سے بھی کم وقت میں گیٹ تک پہنچ گیا۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ ٹرمینل 2 سے سفر کر رہے ہیں تو یہ ممکن ہے، لیکن ٹرمینل 3 سے پرواز ہو تو صرف گیٹ تک پہنچنے میں 45 منٹ لگ سکتے ہیں۔

جنریشن زی کا محتاط رویہ

دوسری جانب اماراتی نوجوان ہند حسن جیسے کچھ افراد اس نظریے کو مسترد کرتے ہیں۔ 22 سالہ ہند کا کہنا ہے کہ وہ پرواز سے کم از کم چار گھنٹے پہلے ائیرپورٹ پہنچتی ہیں تاکہ کسی بھی غیر متوقع تاخیر سے بچا جا سکے۔

انہوں نے کہا، ’’جلدی پہنچنے سے ذہنی سکون ملتا ہے، اور میں لاؤنج میں بیٹھ کر لوگوں کو دیکھنا پسند کرتی ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کوئی اتنی تاخیر سے کیوں پہنچنا چاہے گا؟‘‘ ان کے مطابق، یہ رجحان نوجوانوں کو خطرناک رویے کی ترغیب دیتا ہے جو نہ صرف پرواز سے محرومی بلکہ مالی نقصان کا بھی سبب بن سکتا ہے۔

خلاصہ

جہاں ایک طرف کچھ مسافر ’ائرپورٹ تھیوری‘ کے تجربات سے متاثر ہو کر اسے قابل عمل سمجھ رہے ہیں، وہیں دوسری طرف محتاط ذہن رکھنے والے افراد اسے غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک عمل تصور کر رہے ہیں۔ ائیرپورٹ حکام اور ایئرلائنز نے اس رجحان کے حوالے سے محتاط رویہ اپنانے کی تلقین کی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button