
خلیج اردو
راس الخیمہ – آج جب ہم فوٹوگرافی کو ایک عام پیشہ یا شوق سمجھتے ہیں، اس کا اصل مقام اور معاشرتی اہمیت اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے۔ لیکن متحدہ عرب امارات کے ماضی میں ایک ایسا شخص بھی تھا، جس نے صرف چہرے نہیں، ایک پوری نسل کی شناخت محفوظ کی۔ وہ تھے محمد عبداللہ النمر – راس الخیمہ کے پہلے پیشہ ور فوٹوگرافر۔
سونے کے سوداگر سے روشنی کے مؤرخ تک
1908 میں سعودی عرب کے علاقے الاحساء میں پیدا ہونے والے محمد النمر نے کم عمری میں ہی سونے اور چاندی کے زیورات بنانے کا ہنر سیکھ لیا۔ مگر زندگی نے انہیں ایک اور سمت میں لے جانا تھا۔ صرف 16 برس کی عمر میں، شادی کے فوراً بعد، وہ بہتر مستقبل کی تلاش میں روانہ ہوئے۔ قطر سے اونٹ پر سفر اور طوفانوں سے بھرپور سمندری سفر کے بعد وہ دلما جزیرہ اور پھر راس الخیمہ پہنچے۔
قیادت کا اعتماد اور ایک نیا موڑ
ابتدائی طور پر وہ زیورات کے پیشے سے وابستہ رہے، لیکن جب راس الخیمہ حکومت نے ساحلی علاقوں میں سونے کی کان کنی پر پابندی عائد کی تو انہوں نے کھانے پینے کے سامان کا کاروبار شروع کیا۔ جلد ہی ان کی دیانت داری اور محنت نے انہیں شیخ صقر بن محمد القاسمی کا اعتماد دلایا، جو 1948 سے 2010 تک راس الخیمہ کے حکمران رہے۔ شیخ صقر نے انہیں سفر کے اجازت نامے لکھنے کی ذمہ داری سونپی۔
تصویر کی طاقت کا ادراک
جب شناختی دستاویزات اور پاسپورٹس کے لیے تصاویر کی ضرورت بڑھنے لگی تو شیخ صقر نے انہیں دبئی بھیجا تاکہ وہ وہاں کے واحد پیشہ ور فوٹوگرافر عبداللہ قمبر سے تربیت حاصل کریں۔ صرف چھ دن میں فوٹوگرافی سیکھ کر وہ واپس آئے، اور کویت سے اپنا پہلا کیمرا منگوایا، جس کی قیمت اُس وقت 1200 روپے تھی — آج کے لحاظ سے تقریباً 51 درہم۔
راس الخیمہ کا پہلا اسٹوڈیو
انہوں نے جلفار میں استودیو العروبة کے نام سے راس الخیمہ کا پہلا فوٹو اسٹوڈیو قائم کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اسٹوڈیو امارت کا پہلا ایسا مقام تھا جہاں مخصوص طور پر فوٹوگرافی آلات چلانے کے لیے بجلی کا میٹر نصب کیا گیا۔
گرمیوں میں جب بجلی کی فراہمی محدود ہوتی، تو وہ الحدیبہ کے علاقے میں کھجور کے پتوں سے بنے عریش میں کام کرتے اور کار کی ہیڈلائٹس کی روشنی میں تصویریں تیار کرتے۔ ان کی بیٹی آمنہ محمد النمر کے مطابق:
"وہ دن رات محنت کرتے تھے۔ پورا خاندان ان کے ساتھ کام کرتا، لفافے نشاستے سے بند کرتے، ہاتھ سے تصویری کاغذ کاٹتے اور ہر تصویر پر نام اور تاریخ لکھتے۔”
ایک روپیہ، چار تصاویر، اور احترام
محمد النمر کی شہرت صرف راس الخیمہ تک محدود نہ رہی۔ ام القیوین، فجیرہ اور خصب سے لوگ ان سے تصویر کھنچوانے آتے۔ ان کا معاوضہ؟ صرف ایک روپیہ – جس میں وہ چار تصویریں دیتے۔ ان کی بیٹی کہتی ہیں:
"وہ کبھی منافع کے بارے میں نہیں سوچتے تھے۔ انہیں خوشی ملتی تھی جب لوگ تصویر دیکھ کر مطمئن ہوتے تھے۔”
ورثہ جو سونے سے قیمتی نکلا
1990 میں عید کے دن ان کے انتقال کے بعد، ان کا بنایا ہوا تصویری آرکائیو کئی سالوں تک محفوظ رہا۔ 2019 میں ان کے اہل خانہ نے یہ آرکائیو دوبارہ کھولا اور ہزاروں نایاب تصویریں دریافت کیں، جن میں سے زیادہ تر آج بھی اچھی حالت میں موجود ہیں۔
راس الخیمہ ہیریٹیج ڈیز میں ان کی 18 اصلی پاسپورٹ تصاویر کی نمائش کی گئی، جس نے ان کے کام کو ایک بار پھر زندہ کر دیا۔ ان کے بیٹے باسِم محمد النمر کہتے ہیں:
"پیشہ ہم سب میں منتقل نہیں ہوا، مگر جوش و جذبہ ضرور ہوا۔”
اختتام: ایک چہرہ، ایک شناخت، ایک تاریخ
محمد النمر نے جب سونے کا کاروبار چھوڑا تو شاید انہوں نے تصور بھی نہ کیا ہو کہ وہ جو کچھ بعد میں محفوظ کریں گے، وہ سونے سے بھی زیادہ قیمتی ثابت ہوگا۔ ان کے کیمرے نے نہ صرف چہرے محفوظ کیے بلکہ ایک قوم کی شناخت، تاریخ اور ورثہ کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔





