متحدہ عرب امارات

خطے کے زخم کھلے ہیں، پائیدار امن صرف انصاف پر مبنی مکالمے سے ممکن ہے: اماراتی اعلیٰ سفارتکار ڈاکٹر انور قرقاش

خلیج اردو
ابوظہبی، 5 جولائی
متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ سفارتکار اور صدر کے سفارتی مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے مشرق وسطیٰ میں انصاف پر مبنی پائیدار امن کے لیے فوری اور سنجیدہ مکالمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ "خطہ تاحال بحران کا شکار ہے، زخم کھلے ہوئے ہیں اور ہر سمت سے تصادم کی ہوائیں چل رہی ہیں۔”

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں ڈاکٹر قرقاش نے کہا کہ "ہمیں ایک ایسا سیاسی اُفق درکار ہے جو خودمختاری کا احترام کرے، انصاف پر مبنی پائیدار امن کی بنیاد رکھے اور مطلوبہ استحکام و خوشحالی کو ممکن بنائے۔”

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان 21 ماہ سے جاری جنگ بندی کے لیے عالمی کوششیں جاری ہیں۔ فلسطینی تنظیم حماس نے امریکہ کی ثالثی سے سامنے آنے والی جنگ بندی تجویز پر "مثبت جذبے” کے ساتھ جواب دینے کا عندیہ دیا ہے اور اس پر مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل نے 60 روزہ جنگ بندی کی بنیادی شرائط سے اتفاق کر لیا ہے، جس میں مغویوں کی رہائی اور مستقل جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت شامل ہے۔

فوجی حل نہیں، مقامی قیادت پر مبنی مکالمہ ہی واحد راستہ
ڈاکٹر انور قرقاش نے واضح کیا کہ صرف فوجی کارروائیوں سے مسائل حل نہیں ہو سکتے، بلکہ "مشرق وسطیٰ کے ممالک کی قیادت میں ہونے والا مکالمہ ہی ان بحرانوں سے نکلنے کا راستہ ہے۔”

انہوں نے زور دیا کہ "ہمیں ایک ایسے امن کی ضرورت ہے جو ریاستی خودمختاری کا احترام کرے اور وہ استحکام و خوشحالی دے جس کے ہم سب خواہاں ہیں۔”

اداروں کی کمزوری اور ملیشیاؤں کا تسلط امن میں رکاوٹ
ڈاکٹر قرقاش نے خطے میں جاری بدامنی کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "ریاستی اداروں کی کمزوری، نظریاتی غلبہ اور ملیشیاؤں کا جنگ و امن کے فیصلوں پر اختیار امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔”

اس سلسلے میں ابوظہبی میں ہونے والی حالیہ ملاقات کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان اور اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لاپڈ نے غزہ میں جنگ بندی کی عالمی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button