
خلیج اردو
راﺱ الخیمہ میں پیش آنے والے طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے برطانیہ میں مقیم نوجوان بھارتی نژاد ڈاکٹر سلیمان المجید کی یاد میں یوگنڈا میں دو مساجد تعمیر کی جا رہی ہیں۔ ابتدا میں ایک مسجد کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، تاہم اب اس کی تعداد دو ہو چکی ہے۔
26 سالہ ڈاکٹر سلیمان، کاؤنٹی ڈرہم اینڈ ڈارلنگٹن NHS فاؤنڈیشن ٹرسٹ میں کلینیکل فیلو تھے اور 26 دسمبر 2024 کو اہل خانہ سے ملاقات کے لیے متحدہ عرب امارات آئے ہوئے تھے کہ سیاحتی پرواز کے دوران ان کا طیارہ راﺱ الخیمہ کے ساحل کے قریب گر کر تباہ ہو گیا، جس میں ان کے ساتھ پاکستانی پائلٹ فرینزا بھی جاں بحق ہوئیں۔
حادثے کے بعد، برطانیہ میں ان کے دوستوں اور ساتھیوں نے ان کی یاد میں One Nation نامی خیراتی ادارے کے ذریعے عطیات مہم شروع کی، جس کا مقصد یوگنڈا میں ایک مسجد تعمیر کرنا تھا۔ لیکن عوام کی بھرپور شرکت سے دو مساجد کی تعمیر کے لیے فنڈز جمع ہو گئے۔ برطانیہ کی مختلف مساجد میں پوسٹرز اور کیو آر کوڈز کے ذریعے لوگوں کو ’صدقہ جاریہ‘ کی دعوت دی گئی، تاکہ ڈاکٹر سلیمان کی نیکی کا سلسلہ جاری رہے۔
ڈاکٹر سلیمان المجید نے یونیورسٹی آف سینٹرل لنکاشائر (UCLan) میں بطور صدر اسکول آف میڈیسن نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کیمپس میں جمعے کی باقاعدہ نمازوں کا آغاز کیا، جونیئر ڈاکٹروں کی تنخواہوں اور فلاح و بہبود کے لیے آواز بلند کی، اور فلسطینیوں کے حق میں کھل کر مؤقف اختیار کیا۔
ان کے والد، مجید مکرّم نے خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "طلبہ کی جانب سے اس قدر محبت اور عزم نے ہمیں بہت متاثر کیا۔ ہم شکر گزار ہیں کہ اس منصوبے کے تحت اب یوگنڈا میں دو مساجد بنیں گی، اور ان کی تعمیر اگلے حج سے پہلے مکمل ہو جائے گی۔ یہ صدقہ جاریہ ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے فائدہ مند ہوگا۔”
ڈاکٹر سلیمان یو اے ای میں پیدا ہوئے اور اپنے تین بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ وہ برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن (BMA) کے ناردرن ریزیڈنٹ ڈاکٹرز کمیٹی میں سیکریٹری اور بعد ازاں کو چیئر بھی رہے۔ انہوں نے ’جونیئر ڈاکٹرز‘ کی اصطلاح کو ’ریزیڈنٹ ڈاکٹرز‘ سے تبدیل کرنے کی بھرپور مہم چلائی اور NHS کے تربیت یافتہ ڈاکٹروں کے لیے بہتر حالات کی وکالت کی۔ وہ تعلیمی میدان میں بھی سرگرم رہے اور نارتھ ایسٹ فاؤنڈیشن ٹرینی سرجیکل سوسائٹی کے ٹیچنگ لیڈ کے طور پر نوجوان سرجنوں کی رہنمائی کرتے رہے۔





