
خلیج اردو
غزہ – اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جاری شدید بمباری اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 105 فلسطینی شہید جبکہ 530 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ شہدا میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جنہیں رہائشی علاقوں، پناہ گاہوں اور امدادی مراکز کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر امدادی راہداری پر کھڑے شہریوں پر فائرنگ کر دی، جس میں 7 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ یہ وہ شہری تھے جو معمولی راشن یا روٹی کی تلاش میں اپنی جانوں کا خطرہ مول لے کر نکلے تھے۔ اس طرح صرف راشن کی تلاش میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 770 سے تجاوز کر چکی ہے۔
طبی اور انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک غزہ میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 57 ہزار 680 ہو چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 37 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ اسپتال تباہ ہو چکے ہیں، ایندھن اور ادویات ناپید ہیں، اور شہری مکمل محاصرے میں ہیں۔
غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائی کو بین الاقوامی تنظیمیں مسلسل جنگی جرائم اور نسل کشی قرار دے رہی ہیں، تاہم عالمی سطح پر اس قتل عام کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر قدم تاحال سامنے نہیں آ سکا۔







