متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں رات کے وقت ہیڈ لائٹس کے بغیر گاڑی چلانے پر 30 ہزار سے زائد ڈرائیورز کو جرمانے

خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں 2024 کے دوران رات کے وقت بغیر ہیڈ لائٹس کے گاڑی چلانے پر 30 ہزار سے زائد ڈرائیورز کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ کیا گیا، جو وفاقی ٹریفک اور روڈ قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔ اس قانون کے تحت سورج غروب ہونے کے بعد سے لے کر طلوع آفتاب تک، یا کسی بھی وقت جب ضروری ہو، گاڑیوں کی لائٹس کا روشن ہونا لازمی ہے تاکہ سڑک پر موجود دیگر افراد کو گاڑی کی موجودگی کا علم ہو سکے۔

یہ خلاف ورزیاں مختلف امارات میں ریکارڈ کی گئیں، جن میں دبئی نے سب سے زیادہ 10,706 کیسز رپورٹ کیے، اس کے بعد شارجہ میں 8,635 اور ابوظہبی میں 8,231 خلاف ورزیاں درج ہوئیں۔ عجمان میں 1,393، راس الخیمہ میں 907، ام القیوین میں 74 جبکہ فجیرہ میں 67 ڈرائیورز کو لائٹس نہ جلانے پر جرمانہ کیا گیا۔

قانون کی خلاف ورزی پر سزا

وفاقی ٹریفک قانون کے مطابق، رات یا دھند میں گاڑی کی لائٹس بند ہونے کی صورت میں

اسی طرح اگر گاڑی میں ریئر لائٹس موجود نہ ہوں یا سگنل انڈیکیٹر خراب ہوں تو

  • 400 درہم جرمانہ

  • دو بلیک پوائنٹس عائد کیے جاتے ہیں۔

دیگر متعلقہ خلاف ورزیاں

وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ سال ریئر لائٹس کی عدم موجودگی پر ملک بھر میں 10,932 ڈرائیورز کو جرمانے کیے گئے۔ ان میں ابوظہبی میں 4,279، دبئی میں 3,901، شارجہ میں 1,603، عجمان میں 764، راس الخیمہ میں 246، ام القیوین میں 27 اور فجیرہ میں 112 کیسز شامل ہیں۔

اسی طرح ناقِص یا خراب لائٹس رکھنے والی گاڑیوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی، اور 34,811 ڈرائیورز کو جرمانے دیے گئے، جن میں شارجہ میں سب سے زیادہ 18,702 خلاف ورزیاں ریکارڈ ہوئیں، اس کے بعد ابوظہبی میں 6,899، دبئی میں 4,329، عجمان میں 4,707، فجیرہ میں 148 اور ام القیوین میں 26 کیسز سامنے آئے۔

ٹریفک حکام نے یاد دہانی کرائی ہے کہ گاڑی کی لائٹس کا درست کام کرنا صرف ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ سڑک پر موجود تمام افراد کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button