
خلیج اردو
شارجہ: ایک ننھے سے سیاہ رنگ کی مرسیڈیز میں بیٹھا ایک مسکراتا ہوا اماراتی بچہ، ہاتھوں میں سرخ گلاب اور دل میں خوشیاں بانٹنے کا جذبہ — یہ ہے ماجد عمر، جسے لوگ محبت سے ’شیخ آف ہیپینس‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ وہ اداروں کا دورہ کرتا ہے، ملازمین کو پھول پیش کرتا ہے، اور اپنے خلوص سے سب کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتا ہے۔
اس جذبۂ خیرسگالی کے اعتراف میں شیخ راشد بن حمید النعیمی، سربراہ شعبہ منصوبہ بندی و بلدیہ، عجمان نے حال ہی میں ماجد سے ملاقات کی اور اس کی کوششوں کو سراہا۔ ملاقات کے دوران ماجد نے انہیں مٹھائی کا ڈبہ تحفے میں دیا اور مسکراتے ہوئے دریافت کیا کہ ’’کیا آپ نے اپنے ادارے میں خوشیوں کا دورہ مکمل کیا؟‘‘
رمضان سے شروع ہونے والا سفر
ماجد کا یہ سفر رمضان 2025 میں ایک نمائش کے دوران شروع ہوا، جب اس نے پہلی بار مہمانوں کو پھول دیے اور بھرپور پذیرائی حاصل کی۔ وہ شارجہ سے تعلق رکھنے والا آٹھ سالہ چوتھی جماعت کا طالبعلم ہے، جسے اپنے مرحوم والد سے دوسروں کی مدد کا جذبہ ورثے میں ملا۔ اس مشن میں اس کا بڑا بھائی خالد مسلسل حوصلہ افزائی کرتا ہے: ’’میرا بھائی ہمیشہ کہتا ہے: دوسروں کی مسکراہٹ کی وجہ بنو،‘‘ ماجد نے خلیج ٹائمز کو بتایا۔
خوشی کا فلسفہ
ماجد کے مطابق خوشی دینا کوئی بڑا عمل نہیں بلکہ ایک سادہ سا جذبہ ہے: ’’ایک پھول یا ایک اچھی بات بھی کسی کی زندگی بدل سکتی ہے۔‘‘ وہ ہر صبح اپنی مرسیڈیز میں، روایتی بشٹ اور اماراتی عمامہ پہنے، گلابوں سے بھرا ڈبہ لے کر نکلتا ہے تاکہ اداروں کے ملازمین کا دن خوشگوار بنا سکے۔
اس نے بتایا کہ جب اس نے پہلی بار پھول دیے اور لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھی، تو اس نے سوچا: ’’کیوں نہ یہ کام بار بار کیا جائے؟‘‘
ماجد اور ’شیخ آف ہیپینس‘ میں فرق؟
ماجد کہتا ہے، ’’ماجد وہ بچہ ہے جو کھیلتا ہے اور پڑھتا ہے، لیکن جب میں بشٹ پہن کر اپنی گاڑی میں بیٹھتا ہوں، تو میں ’شیخ آف ہیپینس‘ بن جاتا ہوں — وہ جو دوسروں کی خوشیوں کا ذمہ دار ہوتا ہے۔‘‘
اس کے مطابق ’شیخ آف ہیپینس‘ ایک ایسا بچہ ہے جو محبت، نرمی اور چھوٹے تحائف سے دل جیتتا ہے۔ ’’سرخ گلاب محبت کی علامت ہیں، اور میں سب سے محبت کرتا ہوں۔ مجھے سب کے چہروں پر مسکراہٹیں دیکھنا پسند ہے،‘‘ ماجد نے کہا۔
ایک لمحہ جو یادگار بن گیا
ماجد کو ایک بزرگ کا جملہ آج بھی یاد ہے، ’’ایک دن میں نے ایک بزرگ کو پھول دیا، تو وہ مسکرائے اور بولے: تم نے میرا دن بنا دیا۔ یہ جملہ میرے دل میں بس گیا ہے اور مجھے مزید خوشیاں بانٹنے کا حوصلہ دیتا ہے۔‘‘
خاندان اور اسکول کا تعاون
ماجد کے مشن میں اس کا خاندان، اساتذہ اور ساتھی بھی بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔ ان کے تعاون سے ماجد مزید اداروں کا دورہ کرتا ہے اور زیادہ لوگوں میں خوشیاں بانٹ رہا ہے۔
اسے نہ صرف دعائیں، بلکہ ای میلز اور شکریہ کے پیغامات بھی موصول ہوتے ہیں۔ ایک لڑکی نے حالیہ پیغام میں لکھا، ’’جب تم نے مجھے دیکھا اور مسکرائے، تو مجھے پھر سے جینے کی ہمت ملی۔‘‘
ماجد کا پیغام سادہ مگر دل سے ہے:
’’نرمی سے بات کرو، مسکراہٹ دو، اور دوسروں کی مدد کرو — کیونکہ مثبت سوچ ہمیشہ لوٹ کر آتی ہے۔







