متحدہ عرب امارات

یو اے ای: 14 سالہ بچے کی جان بچ گئی، دمہ سمجھا جانے والا مرض دراصل مہلک دل کی بیماری نکلا

خلیج اردو
دبئی — ایک ماں کی حساسیت اور وقت پر درست طبی مشورے لینے کی عادت نے اس کے بیٹے کی جان بچا لی۔ 14 سالہ سودانی لڑکا مزن منتصر حسن بچپن سے جسے دمہ یا سانس کی بیماری سمجھا جا رہا تھا، دراصل ایک نایاب پیدائشی دل کی بیماری کوآرکٹیشن آف دی اورٹا (Coarctation of the Aorta) کا شکار تھا — جو علاج کے بغیر جان لیوا ثابت ہو سکتی تھی۔

یہ بیماری ہر 2,900 میں سے ایک بچے میں پیدا ہوتی ہے اور عام طور پر پیدائش کے فوراً بعد یا ابتدائی بچپن میں تشخیص ہوتی ہے، لیکن مزن کا کیس منفرد اس لیے ہے کہ اس کی تشخیص 14 سال کی عمر میں ہوئی — جو کہ انتہائی نایاب ہے۔

ماں کی بصیرت نے بچائی جان

ام مزن بتاتی ہیں کہ تین سال کی عمر سے ہی ان کا بیٹا کھیلتے وقت سانس لینے میں مشکل محسوس کرتا، کھانسی کرتا اور ویزنگ ہوتی۔ "مجھے لگا یہ بھی دمہ ہے جیسے مجھے تھا، تمام ڈاکٹروں نے کھانسی کی دوا دی، کسی نے بڑی بیماری کا اندازہ نہ لگایا،” انہوں نے کہا۔

ایک دن مزن نے اپنے والد کا بلڈ پریشر چیک کرنے والا آلہ لیا اور خود پر آزمایا — اور حیرت انگیز طور پر پریشر زیادہ نکلا۔ جب فارمیسی پر دوبارہ چیک کروایا گیا، تو وہاں بھی یہی نتیجہ آیا۔ یہی لمحہ مزن کے اصل مرض تک رسائی کا ذریعہ بنا۔

تشخیص اور علاج کا مرحلہ
Aster Hospital Mankhool میں کارڈیولوجی کے سربراہ ڈاکٹر نوید احمد کی زیر نگرانی تفصیلی معائنے کیے گئے جن میں ECG، ایکوکارڈیوگرام، اور سی ٹی آوروٹوگرافی شامل تھے۔ ان تمام ٹیسٹوں سے یہ واضح ہوا کہ مزن کی اورٹا (دل کی بڑی شریان) میں پیدائشی تنگی موجود ہے، جس کی وجہ سے خون کی روانی متاثر ہو رہی تھی۔

اس تنگی کے باعث دل پر غیر معمولی دباؤ پڑ رہا تھا، اور اگر اسے مزید نظر انداز کیا جاتا تو دائمی بلڈ پریشر، دل کی ناکامی یا فالج جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی تھیں۔

جدید اور کم تکلیف دہ علاج
اوپن ہارٹ سرجری کے بجائے ڈاکٹروں نے کوآرکٹو پلاسٹی کا انتخاب کیا، جو کہ ایک کم تکلیف دہ طریقہ علاج ہے۔ اس میں ران کی شریان کے ذریعے ایک اسٹنٹ دل کی بند شریان تک پہنچا کر اسے کھولا گیا۔ اس طریقے سے نہ صرف مریض جلد صحت یاب ہوتا ہے بلکہ اسپتال میں قیام بھی کم ہوتا ہے۔

آپریشن کے فوراً بعد مزن کا بلڈ پریشر معمول پر آگیا، توانائی بحال ہوئی اور وہ اگلے ہی دن معمول کی سرگرمیوں میں شامل ہو گیا۔ آئندہ 4 سے 6 ہفتوں میں وہ کھیلوں سمیت مکمل جسمانی مشقت کے قابل ہوگا۔

ماں کی اپیل: والدین ہوشیار رہیں
ام مزن نے والدین کو مشورہ دیا کہ بچوں کی صحت پر ہمیشہ نظر رکھیں، ان کے غیر معمولی رویوں کو نظرانداز نہ کریں، اور ایک سے زیادہ ڈاکٹروں سے رائے ضرور لیں۔ "اگر ہم پہلے سے کسی ماہر کے پاس چلے جاتے، تو شاید مزن کو یہ تکلیف سالوں نہ سہنی پڑتی۔”

ڈاکٹر نوید احمد نے بھی کہا کہ "اگر بروقت علاج نہ کیا جاتا، تو دل کی ناکامی یا فالج جیسے نتائج ناگزیر تھے۔ اس کیس میں بروقت تشخیص اور درست حکمت عملی نے بچہ کی زندگی بچا لی۔”

Coarctation of the Aorta: یہ بیماری کیا ہے؟
یہ ایک پیدائشی بیماری ہے جس میں اورٹا شریان غیر معمولی طور پر تنگ ہوتی ہے۔ یہ بیماری زیادہ تر مرد بچوں میں پائی جاتی ہے، اور اس کی قبل از پیدائش تشخیص ممکن تو ہے لیکن اکثر پیچیدہ ہوتی ہے۔

مزن کی بروقت تشخیص اور کامیاب علاج نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ والدین کی ہوشیاری، ڈاکٹرز کی مہارت، اور جدید ٹیکنالوجی مل کر معجزے بھی دکھا سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button