
خلیج اردو
جب متحدہ عرب امارات میں گرمیوں کی چھٹیاں سیاحت، ریستورانوں میں کھانے اور سمر کیمپس سے بھر جاتی ہیں، تو کئی والدین ان دنوں کو مزید بامقصد بنانے کے لیے بچوں کو مالیاتی نظم و ضبط، بچت اور بجٹ سازی کی تربیت دینے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
دنیا بھر میں نوجوانوں کے مالی انحصار پر خدشات بڑھ رہے ہیں۔ امریکہ میں 2025 کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، 50 فیصد والدین اب بھی اپنے بالغ بچوں کے اخراجات اٹھا رہے ہیں، جن کی اوسط رقم 5,400 درہم (1,474 ڈالر) ماہانہ ہے۔
متحدہ عرب امارات میں کئی والدین ایک فعال کردار اختیار کرتے ہوئے روزمرہ سرگرمیوں کو مالیاتی تعلیم کا ذریعہ بنا رہے ہیں، جیسے کہ بازار جانا یا خاندانی تفریحی دورے — جنہیں وہ حقیقی زندگی کے مالی اسباق میں تبدیل کر رہے ہیں۔
بچوں میں سمارٹ مالی عادات پیدا کرنا
گرمیوں کی چھٹیوں میں جب بچے گھر پر ہوتے ہیں اور اخراجات بڑھ جاتے ہیں، یہ وقت بجٹ بنانے، بچت کرنے اور شعوری طور پر خرچ کرنے کے اصول سکھانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق چھوٹے ماہانہ وظیفے سے لے کر بچت کے اہداف تک، سب سے مؤثر سبق روزمرہ کی مشق سے سیکھے جا سکتے ہیں۔
جی ای ایم ایس انٹرنیشنل اسکول الخیل کی سیکنڈری ہیڈ، امانڈا مرفی نے کہا، ’’گرمیوں کا وقت بچوں کے لیے خود سے، اپنے خاندان اور کلاس روم سے باہر کی دنیا سے دوبارہ جڑنے کا موقع ہوتا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگرچہ مالی تعلیم اسکول کے IB نصاب، خاص طور پر مڈل ایئر پروگرام اور بزنس مینجمنٹ کلاسز میں شامل ہے، لیکن سب سے مؤثر سیکھنے کا عمل نصابی حدود سے باہر ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا، ’’گرمیوں میں مالیاتی تعلیم کی منظم سرگرمیاں کچھ بچوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہیں، لیکن انہیں عملی تجربات کے ساتھ متوازن رکھنا ضروری ہے۔ سیکھنے کا عمل اسکول کی دیواروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ گرمیوں کا وقت خوشی، یادیں اور غیر رسمی سیکھنے کے لیے بھی ہوتا ہے — اور یہ سب بھی ایک طرح کی سرمایہ کاری ہیں۔‘‘
روزمرہ لمحات، زندگی بھر کے اسباق
دبئی کے معروف لائف کوچ اور توانائی معالج، گِریش ہمنانی نے بھی اس سوچ سے اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا، ’’گرمیوں کی چھٹیوں میں مالیاتی تربیت کا بہترین موقع ہوتا ہے۔ سمر آؤٹنگز، کیمپس اور روزمرہ کی خریداری بچوں کو بجٹ سازی، شعوری خرچ اور منصوبہ بندی کے بارے میں سکھانے کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔‘‘
انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے مالی رویے کو بھی بہتر بنائیں کیونکہ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں، نہ کہ صرف وہ جو انہیں بتایا جائے۔ ’’اپنے مالی خیالات کے بارے میں دیانت داری اختیار کرنا اور کنٹرول کے بجائے مکالمے کی گنجائش دینا بچے کے لیے ایک صحت مند جذباتی بنیاد فراہم کرتا ہے۔‘‘
صبر سے حاصل ہونے والا فائدہ
رجسٹرڈ فنانشل پلانر بین لیبگ اپنی بیٹی کو کم عمری سے ہی مالی سبق دیتے آ رہے ہیں۔ اب جب وہ ایک نو عمر ہے، تو وہ یہ سبق اپنی زندگی میں عملی طور پر لاگو کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا، ’’ہم اپنی بیٹی کو بچپن سے ہی پیسے سنبھالنے کی تربیت دے رہے ہیں۔ ہم نے اسے ہمیشہ اپنی آمدن، تحائف یا استعمال شدہ کتابیں بیچنے سے حاصل رقم کا 50 فیصد لازمی طور پر بچت میں ڈالنے کی عادت دی ہے۔‘‘
اب جب کہ ان کی بیٹی گرمیوں میں دوستوں کے ساتھ باہر جاتی ہے، تو وہ ان اصولوں پر عمل کر رہی ہے۔ ’’اگر اسے کچھ پسند آ جائے تو وہ فوری طور پر نہیں خریدتی بلکہ ہم سے مشورہ کرتی ہے۔ یہ اس کے اخراجات کو بہتر منصوبہ بندی کے تحت لانے اور یہ فیصلہ کرنے میں مدد دیتا ہے کہ آیا وہ واقعی اس چیز کی ضرورت محسوس کرتی ہے یا نہیں۔‘‘
30 درہم ماہانہ جیب خرچ اور ذمہ داری کا شعور
نو سالہ بیٹے کے والد، اریجیت نندی نے بتایا کہ انہوں نے بیٹے کو صرف 30 درہم ماہانہ دینا شروع کیے ہیں۔ ’’میرا بیٹا یہ رقم اپنی پگی بینک میں رکھتا ہے اور ہم سے مشورہ کیے بغیر کچھ نہیں خریدتا۔ کبھی کبھار میری اہلیہ اسے اکیلے بیکری یا فاسٹ فوڈ شاپ پر بھیج دیتی ہیں جہاں وہ رقم دے کر خریداری کرتا ہے اور باقی پیسے واپس لاتا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یہ چھوٹا سا عمل اس کی شخصیت پر گہرا اثر ڈال رہا ہے۔ ’’ہم نے اس کے لیے خرچ کی حد مقرر کر دی ہے، اور یہ اس میں ذمہ داری کا شعور پیدا کر رہا ہے۔ کئی بار وہ مقررہ حد سے کم خرچ کرتا ہے، اور کبھی کبھار اپنی بچت سے دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے تحائف بھی خریدتا ہے۔






