
خلیج اردو
نئی دہلی: ایئر انڈیا کی لندن جانے والی پرواز کے المناک حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ایئرلائن نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ انہیں ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو کی رپورٹ موصول ہو گئی ہے، اور وہ متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حادثے کے فوراً بعد کاک پٹ میں کنفیوژن تھا۔ پرواز کے آغاز کے چند لمحوں بعد فیول کٹ آف سوئچز بند کر دیے گئے جس سے طیارے کے دونوں انجنوں کو ایندھن کی فراہمی بند ہو گئی۔ حادثے سے چند لمحے قبل ‘میڈے کال’ بھی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ایک پائلٹ کو کاک پٹ ریکارڈر پر دوسرے سے پوچھتے سنا گیا:
"تم نے فیول کیوں بند کیا؟”
جس پر دوسرے پائلٹ نے جواب دیا:
"میں نے کچھ نہیں کیا۔”
یہ بوئنگ 787 ڈریملائنر پرواز AI171 تھی، جو 12 جون کو احمد آباد ایئرپورٹ سے ٹیک آف کے فوراً بعد بی جے میڈیکل کالج (BJMC) کے انڈرگریجویٹ ہاسٹل سے جا ٹکرائی، جس میں 241 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ صرف ایک شخص زندہ بچ سکا۔
ہلاک ہونے والوں میں 33 نوجوان میڈیکل طلبہ بھی شامل تھے، جو لندن میں تعلیم حاصل کرنے جا رہے تھے۔
ایئر انڈیا نے اپنے بیان میں کہا:
"ہم تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہے ہیں اور تمام تفصیلات کے حوالے سے AAIB سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، کیونکہ معاملہ تاحال زیرِ تفتیش ہے۔”
ایئرلائن نے مزید کہا:
"ہم اس ناقابلِ تلافی نقصان پر سوگوار ہیں اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں۔







