
خلیج اردو
اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اللّٰہ مجھ سے پوچھے گا کہ دنیا میں کیا کام کیا؟ تو میں کہوں گا کہ میرٹ پر کام کیا۔ اُنہوں نے یہ بات انٹرن شپ پروگرام اُڑان پاکستان – سمر اسکالرز کے لیے منتخب طلبہ سے خطاب کے دوران کہی۔ وزیرِ اعظم نے طلبہ کو ملک کا مستقبل اور قوم کی ترقی کی کنجی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے نکل چکا ہے، 2023 میں شدید معاشی بحران کے باوجود، ہمیں یقین تھا کہ ہم ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیں گے۔ شہباز شریف کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد معیشت میں بہتری آئی، پالیسی ریٹ جو 22 فیصد تھا، اب کم ہو کر 11 فیصد پر آ چکا ہے۔ اس کمی سے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔
وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب میں ایف بی آر میں اصلاحات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سفارشی کلچر کو مسترد کرتے ہوئے بہترین اہلکاروں کو تعینات کیا۔ اُن کے مطابق ڈیجیٹلائزیشن اور فیس لیس ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی جس کے نتیجے میں 500 ارب روپے محاصل کی مد میں اکٹھے کیے گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان اقدامات کے ذریعے ملک میں شفافیت اور کارکردگی کا نیا کلچر پروان چڑھ رہا ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے پنجاب میں 20 ارب روپے کی لاگت سے میرٹ پر لیپ ٹاپ تقسیم کیے، اور مستقبل میں بھی نوجوانوں کی فلاح کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ ملک کے لیے جذبے کے ساتھ کام کریں۔
بھارت سے کشیدگی اور قومی دفاع کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پہلگام واقعے میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں تھا، لیکن اس کے بعد بھارت نے جارحیت کی راہ اپنائی اور 55 بے گناہ پاکستانی شہری شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دشمن کے 6 طیارے گرائے اور 10 مئی کو دشمن کو بھرپور اور مؤثر جواب دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ دفاعی کارروائی قوم کے وسیع اتحاد کا نتیجہ تھی۔
وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب کا اختتام اس پیغام پر کیا کہ ہم نے اگر اہداف حاصل نہ کیے تو نتائج کے ذمہ دار خود ہوں گے، اور یہ کہ عوام کی خدمت ہماری اولین ذمہ داری ہے جس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔






