پاکستانی خبریں

اسلام آباد ہائیکورٹ کا توہین مذہب کے مقدمات پر فیکٹ فائنڈنگ کمیشن بنانے کا حکم

خلیج اردو
اسلام آباد – اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ توہین مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے 30 روز کے اندر ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیشن تشکیل دے۔ عدالت نے کمیشن کی کارروائی کو براہ راست نشر کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

فیصلہ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے سنایا۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کو چار ماہ میں توہینِ مذہب سے متعلق مقدمات کی جامع تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر مقررہ مدت میں رپورٹ مکمل نہ ہو سکے تو مزید وقت کے لیے عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد سے ایف آئی اے اور کچھ افراد کے گٹھ جوڑ کے الزامات کو تقویت ملتی ہے۔ لہٰذا کمیشن یہ پہلو بھی دیکھے گا کہ توہینِ مذہب کے مقدمات میں بدنیتی سے کسی مخصوص طبقے کو نشانہ تو نہیں بنایا گیا۔

عدالت کے مطابق درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے رشتہ داروں پر سوشل میڈیا پر مبینہ گستاخانہ مواد کی بنیاد پر مقدمات قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے کئی کو سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں اور ان کی اپیلیں زیر التوا ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کمیشن کی تشکیل کے لیے کوئی اضافی ضابطہ کار (ٹی او آرز) درکار ہوں تو وفاقی حکومت وہ بھی مرتب کرے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے وفاقی حکومت سے ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کریں۔

واضح رہے کہ ابتدائی سماعتوں میں وفاقی حکومت نے کمیشن کے قیام پر رضامندی ظاہر کر دی تھی اور عدالت کو مکمل اختیار دیا تھا کہ وہ کمیشن کے ضابطہ کار بھی خود بنا دے۔

عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مقدمے کی 42 سماعتیں ہوئیں، جن میں کئی فریقین کو مکمل طور پر سنا گیا۔ کچھ فریقین نے شکایت کی تھی کہ انہیں مناسب موقع نہیں دیا گیا، تاہم عدالت نے ان نکات کا جائزہ لے کر فیصلہ سنایا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو توہین مذہب جیسے حساس معاملات میں شفاف تحقیقات کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

BBC URDU

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button