متحدہ عرب امارات

اماراتی ہوٹل نے ہوا سے پانی کشید کر پینے کے لیے مہیا کرنا شروع کر دیا

خلیج اردو
عجمان کے مشہور بحی پیلس ہوٹل نے ماحول دوست اقدام کے تحت ایک منفرد ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے جس کے ذریعے وہ ہوا سے نمی کشید کر کے پینے کے قابل خالص پانی تیار کر رہا ہے۔ یہ پانی روزانہ ہوٹل کے مہمانوں کو مفت فراہم کیا جاتا ہے۔

ہوٹل کے جنرل مینیجر افتخار حمدانی کے مطابق یہ پانی سمندر، زیر زمین یا کسی یوٹیلیٹی لائن سے نہیں لیا جاتا بلکہ براہ راست ہوا سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں ہوا سے نمی کھینچ کر اسے ٹھنڈا کیا جاتا ہے تاکہ پانی کی بوندیں بنیں، جو بعد ازاں فلٹرز اور یووی پیوریفیکیشن کے ذریعے خالص پانی میں تبدیل ہوتی ہیں۔

اس جدید نظام کی بدولت ہوٹل نے پلاسٹک کی پانی کی بوتلوں کا استعمال مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ اب پانی شیشے کی دوبارہ قابل استعمال بوتلوں میں مہیا کیا جاتا ہے، جس سے ہر ماہ سینکڑوں کلوگرام پلاسٹک کا فضلہ کم ہو گیا ہے۔

یہ شیشے کی بوتلیں 85 ڈگری سینٹی گریڈ پر گرم پانی اور بھاپ سے سینیٹائز کی جاتی ہیں اور ان پر میعاد ختم ہونے کی تاریخ بھی درج کی جاتی ہے، جو تین ماہ تک درست رہتی ہے۔ پورا نظام ہوٹل اور پلانٹ مینوفیکچرنگ کمپنی کی نگرانی میں ہے اور اس پانی کی باقاعدہ جانچ بھی سرکاری ادارے کرتے ہیں۔

یہ نظام رواں سال جنوری میں نصب کیا گیا تھا اور اب روزانہ ایک ہزار لیٹر پینے کے پانی کی پیداوار کر رہا ہے۔ عام دنوں میں 700 لیٹر سے مہمانوں کی ضروریات پوری ہو جاتی ہیں، جبکہ بڑی تقریبات کے دوران مکمل استعداد سے پیداوار کی جاتی ہے۔

افتخار حمدانی کا کہنا ہے کہ ہوٹل نہ صرف ماحول کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہا ہے بلکہ یہ نظام مالی طور پر بھی فائدہ مند ہے، کیونکہ پلاسٹک کی بوتلوں کی خرید، ترسیل اور ضیاع سے منسلک اخراجات اب ختم ہو چکے ہیں۔

مہمانوں نے نہ صرف پانی کے ذائقے کو سراہا ہے بلکہ اس کے ماخذ پر بھی خوشگوار حیرت کا اظہار کیا ہے۔ بہت سے افراد اس ٹیکنالوجی کے بارے میں جاننے کے لیے عملے سے گفتگو بھی کرتے ہیں۔

بحی پیلس ہوٹل کا یہ قدم نہ صرف ماحولیاتی ذمے داری کی ایک مثال ہے بلکہ دیگر ہوٹلز کے لیے بھی ایک تحریک ہے کہ وہ موجود وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ماحول دوست اقدامات کریں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button