
خلیج اردو
ابوظبی: متحدہ عرب امارات میں مقیم 36 سالہ غیر ملکی شہری کو شدید کمر اور سینے کے درد کی شکایت پر اسپتال لایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اس کی جگر کی شریان میں ایک رسنے والا پھولاؤ (aneurysm) دریافت کیا۔ مزید معائنے سے انکشاف ہوا کہ وہ ایک نایاب جینیاتی بیماری میں مبتلا ہے، جو خون کی نالیوں کی دیواروں کو کمزور کر دیتی ہے، اور پھولاؤ یا شگاف (rupture) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
مریض کو ابوظبی کے برجیل اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں متعدد جان بچانے والی پیچیدہ سرجریاں کی گئیں۔ ڈاکٹر معتصم بخاری، کنسلٹنٹ واسکولر سرجن کے مطابق، مریض کو ابتدائی طور پر یہ امید تھی کہ درد دوا اور آرام سے کم ہو جائے گا، لیکن جب معمولاتِ زندگی متاثر ہونے لگے تو اس نے ایمرجنسی میں رجوع کیا۔
سی ٹی اینجیوگرام سے معلوم ہوا کہ جگر کی بائیں جانب خون فراہم کرنے والی شریان سے رساؤ ہو رہا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر محمد المرزوقی نے "اینڈوواسکولر کوئلنگ” کے ذریعے متاثرہ شریان میں چھوٹے کوائلز داخل کیے تاکہ رساؤ بند کیا جا سکے۔
تاہم، اگلے ہی دن ایک نئی پیچیدگی سامنے آئی جب مریض کی دائیں ران کی بڑی شریان میں "فالس اینیورزم” بن گیا، جو جلد ہی پھٹ گیا اور اندرونی خون بہاؤ شروع ہو گیا۔ ڈاکٹروں کو فوری اوپن سرجری کرنا پڑی، جس میں نچلے پیٹ سے شریان تک رسائی حاصل کر کے شگاف کو بند کیا گیا، اور تقریباً 3 لیٹر خون نکالا گیا۔
اس کیس کی پیچیدگی اس وقت بڑھی جب ڈاکٹروں کو ایک ساتھ دو متضاد صورتحال کا سامنا کرنا پڑا: ایک طرف خون پتلا کرنا ضروری تھا تاکہ شریانوں میں خون نہ جمے، اور دوسری طرف شدید اندرونی خون بہنے کی صورت میں خون پتلا کرنا جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا۔ ڈاکٹروں نے دونوں خطرات کے درمیان توازن برقرار رکھ کر مریض کی جان بچائی۔
آئی سی یو میں مریض کی نگہداشت ڈاکٹر خالد حسن اتیا غراب کی سربراہی میں کی گئی، جبکہ سرجری کے دوران بے ہوشی کے عمل کی نگرانی ڈاکٹر محسن سلیم بسادے نے کی۔
مریض، جس نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے کہا:
"درد ناقابلِ برداشت تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ ان سرجریوں کے بغیر میری زندگی معمول پر نہیں آ سکتی۔ میں ڈاکٹروں اور اپنی والدہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ایک لمحہ بھی میرا ساتھ نہیں چھوڑا۔”
آج وہ بحالی کے عمل سے گزر رہا ہے، زخم بھر رہے ہیں، اور وہ معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹنے کے لیے پُرامید ہے۔ اس کا کہنا تھا:
"میں دعا کرتا ہوں کہ یہ میری زندگی کا ایک نیا موڑ ثابت ہو۔ صحت، کام اور خاندان اب میرے لیے ایک نئی اہمیت رکھتے ہیں۔”
ڈاکٹر معتصم بخاری کے مطابق، اگرچہ فوری خطرہ ٹل چکا ہے، مگر مریض کی حالت اب بھی طویل مدتی دیکھ بھال کی متقاضی ہے۔ اس وقت اس کے جسم میں سات کے قریب پھولاؤ اور چار سے پانچ شریانی شگاف موجود ہیں جن کی باقاعدہ نگرانی اور اسکینز ضروری ہوں گے۔







