
خلیج اردو
ابوظبی: متحدہ عرب امارات میں مقیم 12 ہزار سے زائد برازیلی باشندوں پر مشتمل ایک متحرک برادری خاموشی سے ملک کے ثقافتی منظرنامے کو تبدیل کر رہی ہے۔ کھیل، طب، انجینئرنگ، فیشن اور فنونِ لطیفہ جیسے شعبوں میں اپنی موجودگی کے ذریعے یہ کمیونٹی نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان روابط مضبوط کر رہی ہے بلکہ "خاندانی اقدار، گرمجوشی اور برادری” جیسے مشترکہ جذبات کو بھی فروغ دے رہی ہے۔
برازیل کے سفیر، سڈنی لیون رومیرو کے مطابق، "ہم یہاں خود کو غیر ملکی نہیں سمجھتے بلکہ ہمیں اپنائیت محسوس ہوتی ہے، جو کہ بہت کم ممالک میں میسر آتی ہے۔”
جیو جِتسو سے تعلق
رومیرو نے بتایا کہ تقریباً 1,500 برازیلی باشندے متحدہ عرب امارات میں جیو جِتسو کے کوچز کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ یہ مارشل آرٹ نہ صرف مقامی سطح پر مقبول ہوا ہے بلکہ شاہی خاندان میں بھی اسے اپنایا گیا ہے، جس کی ایک مثال ولی عہد شیخ خالد بن محمد کی بیٹی کی مشق ہے۔
رومیرو نے کہا، "ہمیں فخر ہے کہ برازیلین جیو جِتسو کو یہاں اپنایا گیا۔ یہ کھیل ہماری قربت اور باہمی عزت کی علامت بن چکا ہے۔”
ثقافتی قربت
برازیلی سفیر نے مزید بتایا کہ متحدہ عرب امارات کی طرز زندگی، سیکیورٹی اور مثبت ماحول نے برازیلی باشندوں کو یہاں رہنے پر آمادہ کیا۔ "یہ ایک محفوظ اور متوقع ملک ہے جہاں ہر روز مثبت خبریں ملتی ہیں۔”
انہوں نے اماراتی اور برازیلی معاشروں میں ثقافتی مماثلتوں پر بھی روشنی ڈالی۔ دونوں خطے صحرائی ماحول میں پروان چڑھے اور ان میں خانہ بدوش اقدار، خاندانی نظام، گرمجوشی اور روایات سے جڑے رہنے جیسی خصوصیات مشترک ہیں۔ حیران کن طور پر، پرتگالی زبان کے کئی الفاظ عربی سے مستعار لیے گئے ہیں، جیسے "الجبرا”، "مطولا” اور "الجردا”۔
ادب، فن اور فٹبال میں برازیلی اثرات
دبئی میں مقیم دس برازیلی خواتین پر مشتمل ایک گروپ باقاعدگی سے شاعری، افسانے اور کہانی نویسی میں مصروف ہے۔ اسی طرح برازیلی اداکارہ اور انفلوئنسر سبرینا پیٹروفسکی، جو 1.5 ملین فالوورز رکھتی ہیں، امارات کی بہترین سفیر بن چکی ہیں۔
کھیلوں کے میدان میں بھی برازیلی کھلاڑیوں نے متحدہ عرب امارات کی ٹیموں بالخصوص العین ایف سی کو فیفا کلب ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں مدد دی۔ سفیر رومیرو نے کہا، "العین میرا پسندیدہ کلب ہے، اور مجھے فخر ہے کہ برازیلی کھلاڑی اس کا حصہ رہے۔”
مستقبل کے منصوبے
برازیلین سفارت خانہ ثقافتی میدان میں ایک نیا منصوبہ متعارف کرانے پر کام کر رہا ہے تاکہ ثقافتی تبادلے کو فروغ دیا جا سکے۔ رومیرو کے مطابق، "عوام سے عوام کی سطح پر یہ سفارتکاری نہ صرف ثقافت بلکہ معیشت، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی نئے دروازے کھولتی ہے۔







