
خلیج اردو
دبئی: اگر کوئی شخص متحدہ عرب امارات سے قانونی طور پر ڈی پورٹ کیا گیا ہو، تو اس کی دوبارہ ملک واپسی صرف خاص منظوری کے بعد ہی ممکن ہوتی ہے۔ ایک صارف کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں قانونی ماہرین نے وضاحت کی ہے کہ ڈی پورٹ ہونے والے شخص کو واپسی کے لیے یو اے ای کے صدر کی اجازت درکار ہوتی ہے۔
وفاقی فرمانی قانون نمبر 29 برائے 2021 کے آرٹیکل 18 (1) کے مطابق:
"وہ غیر ملکی جو پہلے ملک سے ڈی پورٹ کیا جا چکا ہو، وہ صدرِ مملکت کی اجازت کے بغیر دوبارہ ملک میں داخل نہیں ہو سکتا۔”
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی فرد کو کسی بھی وجہ سے (جیسا کہ مالی تنازع یا جھگڑا) ڈی پورٹ کیا گیا ہو، تو وہ ازخود یو اے ای واپس نہیں آ سکتا، بلکہ اسے اس کے لیے باضابطہ اجازت درکار ہوگی۔
واپسی کے لیے طریقہ کار:
متعلقہ فرد کو فیڈرل اتھارٹی برائے شناخت، شہریت، کسٹمز و بارڈر سیکیورٹی (ICP) یا وزارتِ داخلہ میں درخواست دینا ہوگی۔ اس درخواست کے ساتھ مندرجہ ذیل دستاویزات منسلک کرنا ضروری ہوں گی:
-
سابقہ پاسپورٹ اور اماراتی شناختی نمبر
-
ڈی پورٹ یا حوالگی کا سرکاری حکم
-
واپسی کی وجہ کی تفصیل (مثلاً نوکری)
-
متحدہ عرب امارات کے کسی آجر کی طرف سے ملازمت کی پیش کش
درخواست متعلقہ حکام کے پاس غور کے لیے بھیجی جائے گی اور فیصلہ مکمل طور پر ان کی صوابدید پر ہوگا۔ بہتر نتائج کے لیے، کسی ماہر قانونی مشیر کی خدمات لینا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
جامع نتیجہ:
ڈی پورٹ کیے گئے افراد کی یو اے ای واپسی ممکن ضرور ہے، مگر صرف صدر مملکت کی پیشگی اجازت کے ساتھ۔ اس کے لیے درست قانونی طریقہ کار اور تمام ضروری دستاویزات کے ساتھ درخواست دینا لازمی ہے۔






