متحدہ عرب امارات

کوویڈ -19 کی وجہ سے نمونیہ کا پتہ لگانے کے لئے متحدہ عرب امارات کا پہلا سی ٹی اسکینر تیار

کوویڈ سے  نمونیا کا پتہ لگانے کے لئے نئے سی ٹی اسکینر سے 3،000 لوگوں کو فائدہ ہوا ۔

ابو ظہبی ہیلتھ سروسز کمپنی (SEHA) نے اعلان کیا کہ کوویڈ ۔19 کی وجہ سے نمونیہ کی تشخیص کے لئے متحدہ عرب امارات کا پہلا کمپیوٹرائزڈ ٹوموگرافی (سی ٹی) اسکینر تیار کرلیا ہے ۔

انتہائی مہارت اور جدید سی ٹی اسکینر العین ہسپتال میں موجود ہے ، جہا 3000 مریض اس نئے ٹیکنالوجی سے مستفید ہو چکیں ہیں.

16 حصوں پر مشتمل موبائل سی ٹی اسکینر ان مریضوں کے فوری اور محفوظ اندازے میں مددگار ہے جنھیں کوویڈ 19 میں نمونیا ہونے کا امکان ہے ، جو اس وائرل انفیکشن کی عام علامت ہے ۔
16 حصوں پر مشتمل سی ٹی سکنرز میں سی ٹی ڈٹیکٹرس کے 16 قطاریں موجود ہیں ، جس سے مریض کے جسم کے ایک سکین کے دوران بہتر کوالٹی امیجنگ اور بڑھے مقدار میں سکین کرتا ہے.

سی ٹی اسکینر نے اعلی سطح کی درستگی کے ساتھ کوڈ 19 مریضوں کے پھیپھڑوں کی تصاویر کھینچی ہیں اور رواں سال اپریل کے آغاز سے ہی کوڈ -19 علاج کی ایک سرشار سہولت العین اسپتال میں زیر استعمال ہے۔

العین ہسپتال ے چیف ایگزیکٹو آفیسر حامد امی المنصوری نے کہا: ” متحدہ عرب امارات کے سب سے بڑے صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والے ادارے کے ایک حصے کے طور پر، ہم عالمی معیار کے مطابق بہترین صحت کی خدمات کی فراہمی کے لئے جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کرنے کے لئے پر عزم ہیں ”

ڈاکٹر جمال الدین القطیش، العین ہسپتال کے کنسلٹنٹ اور ریڈیوولوجی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ نے کہا . ” ہم اس سی ٹی سکینر سے اوسطا فی گھنٹے میں آٹھ مریضوں کا چیک اپ کر سکتے ہیں ، یہ سی ٹی سکینرہمیں مریض کی بہتر رپورٹ میسر کرتا ہے، جس کے بدولت ہم کم سے کم وقت میں علاج کے منسوبیں بنا سکتیں ہیں”

Source ; khaleej Times

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button