
خلیج اردو
لندن: ایئر انڈیا کے طیارہ حادثے کے بعد برطانیہ میں مقیم دو متاثرہ خاندانوں نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں جن لاشوں کی حوالگی کی گئی، وہ ان کے اپنے عزیزوں کی نہیں ہیں۔ یہ حادثہ ایئر انڈیا کی پرواز AI171 کے ساتھ پیش آیا، جس میں 242 مسافر سوار تھے۔ حادثہ بھارت کے شہر احمد آباد میں پرواز کے فوری بعد پیش آیا تھا، اور متاثرین میں 52 برطانوی شہری بھی شامل تھے۔
حادثے کے بعد 12 برطانوی شہریوں کی لاشیں ڈی این اے سیمپلنگ کے بعد واپس برطانیہ منتقل کی گئیں، تاہم برطانوی اخبار ڈیلی میل نے دعویٰ کیا ہے کہ ان میں سے بعض لاشوں کی غلط شناخت کی گئی اور غیر متعلقہ لاشیں متاثرہ خاندانوں کو دی گئیں۔
اس رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے بھارتی حکومت نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ذریعے بتایا ہے کہ "یہ معاملہ ہمارے علم میں آیا ہے اور ہم برطانوی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ تمام خدشات کو دور کیا جا سکے۔”
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ تمام لاشوں کو بین الاقوامی اصولوں اور مکمل پیشہ ورانہ انداز میں شناخت کیا گیا، اور ان کی عزت و احترام کے ساتھ منتقلی کو یقینی بنایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم متاثرہ خاندانوں کے خدشات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور برطانوی حکام کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔”
رپورٹ کے مطابق، مغربی لندن کی کورونر ڈاکٹر فیونا وِلکاکس نے واپس لائی گئی لاشوں کے ڈی این اے نمونوں کا متاثرہ خاندانوں کے دیے گئے ڈی این اے سے موازنہ کیا، جس پر یہ انکشاف سامنے آیا۔
ایوی ایشن قانون کے ماہر جیمز ہیلی پراٹ نے تصدیق کی کہ کم از کم 12 لاشیں واپس لائی گئی تھیں، جن میں سے دو کی شناخت میں غلطی سامنے آ چکی ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔







