متحدہ عرب امارات

ایشیا کپ کس طرح متحدہ عرب امارات میں وجود میں آیا — عبد الرحمان فلک ناز اور محمد رضا عباس کی یادیں

خلیج اردو
دبئی: دبئی کرکٹ کونسل کے چیئرمین عبد الرحمان فلک ناز کہتے ہیں کہ جب وہ ایشیا کپ کی ابتدا کو یاد کرتے ہیں تو فخر سے ان کا دل بھر آتا ہے۔ ان کے مطابق، شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم کو دنیا کا سب سے مشہور نیوٹرل وینیو بننے سے پہلے ہی دو اماراتیوں نے ایشین کرکٹ کونسل (ACC) کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔

"میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ جب ہم نے دہلی میں ایشین کرکٹ کونسل قائم کی تو متحدہ عرب امارات وہ واحد ملک تھا جس کے دو نمائندے تھے — شارجہ کرکٹ کونسل سے مسٹر بختیار اور دبئی کرکٹ کونسل سے میں خود۔ اس وقت ہمیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف جناب عارف عباسی کی بھی حمایت حاصل تھی۔ وہ ایک شاندار دن تھا،” فلک ناز نے خلیج ٹائمز سے گفتگو میں کہا۔

کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ ایشین کرکٹ کونسل کا پہلا دفتر بھی شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں قائم ہوا تھا۔ فلک ناز نے بتایا: "ہم نے ایشین کرکٹ کونسل کا پہلا اجلاس شارجہ میں منعقد کرنے کا موقع حاصل کیا۔ اسی اجلاس میں ہم نے ایشیا کپ کے انعقاد کا فیصلہ کیا۔ یوں ایشیا کپ کا آغاز ہوا، اور یہ ایک شاندار ٹورنامنٹ بن چکا ہے۔”

فلک ناز، جو 1958 میں اپنے دوستوں کے ساتھ پہلی بار یو اے ای میں کرکٹ کھیلتے تھے، اب اتوار کو بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے میچ کے شدت سے منتظر ہیں۔ "یہ ایونٹ یو اے ای میں سیاحت کے لیے بھی بہترین ہے۔ لوگ دنیا بھر سے یہاں آ رہے ہیں کیونکہ اب بھارت اور پاکستان کے درمیان زیادہ میچز نہیں ہوتے۔ اب یہ ٹیمیں صرف ورلڈ کپ یا ایشیا کپ میں ہی آمنے سامنے آتی ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا: "ایسا لگتا ہے کہ دونوں ٹیمیں سپر فور مرحلے میں دوبارہ آمنے سامنے ہوں گی اور ہو سکتا ہے فائنل میں بھی ان کا ٹاکرا ہو۔ اس بار یو اے ای میں تین بھارت-پاکستان میچز ہو سکتے ہیں، جو واقعی ایک بڑا موقع ہے۔ ایک اماراتی ہونے کے ناطے ایسے شاندار ٹورنامنٹس کی میزبانی کرنا میرے لیے باعث فخر ہے۔”

ہندوستان اور پاکستان کی حمایت نے کامیابی کی راہ ہموار کی، محمد رضا عباس

دبئی کرکٹ کونسل کے نائب چیئرمین محمد رضا عباس نے کہا کہ یو اے ای میں کرکٹ کی کامیابی بھارت اور پاکستان کرکٹ بورڈز کی بھرپور حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھی۔

انہوں نے کہا: "ہندوستان اور پاکستان کے کرکٹ بورڈز نے ہماری بھرپور مدد کی جس کی بدولت ہم ایشین کرکٹ کونسل کا پہلا اجلاس منعقد کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اگر ان بورڈز نے اپنی حمایت نہ کی ہوتی تو ہم کبھی بھی ایشیا کپ کی میزبانی نہیں کر سکتے تھے۔”

سابقہ یو اے ای سلیکٹر محمد رضا عباس نے یاد کیا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان شارجہ میں میچز نے کرکٹ کو ایک جادوئی رنگ دیا۔ "ان ٹیموں کو پہلی بار اپنے ملک میں کھیلتے دیکھنا ناقابل یقین تجربہ تھا۔ اس سے قبل صرف گواسکر الیون بمقابلہ میانداد الیون کا ایک نمائشی میچ اور ڈبل وکٹ ٹورنامنٹ ہوا تھا۔”

انہوں نے کہا کہ 1984 کے ایشیا کپ کے بعد آئی سی سی نے یو اے ای کو تسلیم کیا اور شارجہ ہر سال بڑے ٹورنامنٹس کی میزبانی کرنے لگا، جو دنیا کے مقبول ترین کرکٹ ایونٹس میں شامل ہو گئے۔ "لیکن یہ سب ہندوستان اور پاکستان کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اگر انہوں نے اپنی ٹیمیں نہ بھیجیں ہوتیں تو ہماری کرکٹ یہاں اتنی بڑی نہ ہو پاتی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button