
خلیج اردو
دبئی: عرب ریڈنگ چیلنج کی فاتح اور متحدہ عرب امارات کی 14 سالہ ریم الزرعونی اب ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف روبوٹس کی مدد سے جنگ لڑ رہی ہیں۔ الاتحاد نیشنل پرائیویٹ اسکول کی طالبہ ریم نے "پرما بوٹ” (PermaBot) ایجاد کیا ہے، جو زمین کے جمی ہوئی پرت (permafrost) کے پگھلنے کا پتہ لگا کر خطرات سے پہلے خبردار کرے گا۔
یہ اسمارٹ خودکار نظام دنیا کے سرد ترین علاقوں میں زیر زمین جمی ہوئی مٹی کی نگرانی کرتا ہے۔ اگر یہ تہہ پگھلنے لگے تو زہریلی میتھین گیسیں خارج ہو سکتی ہیں، جو ماحول کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ ریم کہتی ہیں: "پرما فراسٹ کا مسئلہ اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اسی لیے میں نے یہ بوٹ ایجاد کیا تاکہ خطرناک صورتحال کا بروقت پتہ چلایا جا سکے اور ارد گرد کے جانداروں کو بچایا جا سکے۔”
ریم نے یونیسف کے "نیٹ زیرو ہیرو” مقابلے میں متحدہ عرب امارات کے 30 بہترین شرکاء میں جگہ بنائی، جہاں ان کے منصوبے پرما فراسٹ، پلاسٹک کے استعمال اور ویسٹ ری سائیکلنگ پر مبنی تھے۔ "نیٹ زیرو ہیرو جیتنا میرے لیے صرف ایک انعام نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے مجھے سکھایا کہ فرق ڈالنے کے لیے عمر کوئی معنی نہیں رکھتی۔”
ادب اور ٹیکنالوجی کا امتزاج
آٹھویں جماعت کی طالبہ ریم نے عرب ریڈنگ چیلنج میں ہزاروں طلباء کو شکست دے کر فتح حاصل کی، جس نے ان کے مسئلہ حل کرنے کے انداز کو نکھارا۔ جہاں دوسرے لوگ ادب اور ٹیکنالوجی کو الگ شعبے سمجھتے ہیں، وہیں ریم ان دونوں کو جوڑ کر دیکھتی ہیں۔ "یہ لمحہ میری زندگی کے یادگار ترین لمحات میں سے ایک تھا۔ ہمارے ملک نے ہمیں ہمیشہ بڑے خواب دیکھنے کی ترغیب دی ہے، اور فائنل میں اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے مجھے گہرا فخر محسوس ہوا۔”
ریم کہتی ہیں کہ وقت کا توازن رکھنے کا راز ترجیحات میں ہے۔ "بیلنس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر کام ایک ساتھ کر لو، بلکہ ہر وقت وہی کرو جو سب سے زیادہ اہم ہے۔ منظم رہ کر اور صرف اُن کاموں پر فوکس کر کے جو مجھے پسند ہیں، میں ان کاموں کو تفریح بنا دیتی ہوں۔”
خاندان کی حمایت کامیابی کی بنیاد
اپنی کامیابیوں کا کریڈٹ ریم اپنے خاندان کو دیتی ہیں۔ "میری سب سے بڑی طاقت میرا خاندان ہے۔ انہوں نے میرے پہلے قدم سے مجھ پر یقین رکھا، مجھے بڑے خواب دیکھنے کی ہمت دی، اور ہر مقابلے میں میرا حوصلہ بڑھایا۔”
نوجوانوں کے لیے ریم کا پیغام سادہ مگر طاقتور ہے: "اپنی آواز، اپنے خیالات اور دنیا میں فرق ڈالنے کی اپنی طاقت پر یقین رکھیں۔ آپ کو فرق ڈالنے کے لیے بالغ ہونے کی ضرورت نہیں، خود کو چیلنج کریں اور چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتے جائیں۔







