
خلیج اردو
دبئی: 31 سالہ کاویا یادو، جو ایک میوزک مارکیٹنگ ایجنسی کی مالک اور بالی ووڈ کی دیوانی ہیں، بالی ووڈ فلموں سے تقریباً مایوس ہو چکی تھیں۔ ہالی ووڈ کی فلمیں تو انہیں محظوظ کرتی تھیں، لیکن بالی ووڈ کی کوئی بھی فلم انہیں سینما جانے پر آمادہ نہیں کر پا رہی تھی۔ یہ صورتحال اُس وقت بدلی جب "سیّارہ” کے گانے اور سینز نے ان کے انسٹاگرام فیڈ پر دھوم مچا دی۔ "ریلز دیکھ کر FOMO ہو رہا ہے، شاید فلم دیکھ کر افسوس ہو، لیکن پھر بھی جاؤں گی، کیونکہ Gen-Z سے کٹ کر نہیں رہنا چاہتی!” کاویا نے ہنستے ہوئے کہا۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر "سیّارہ” کے جذباتی ری ایکشنز، سیلفیز اور ریلز کا سیلاب آیا ہوا ہے، جن میں نوجوان پہلی بار محبت اور دل شکستگی کا تجربہ کرنے کا اظہار کر رہے ہیں۔ چاہے آپ کو یہ ویڈیوز کرنج لگیں یا کیوٹ، حقیقت یہ ہے کہ فلم نے باکس آفس پر تقریباً 88 ملین درہم (2 ارب روپے) کا بزنس کر کے زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔
لیکن اس کامیابی سے بڑھ کر، "سیّارہ” نے بالی ووڈ میں رومانس کے اس صنف کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے جو طویل عرصے سے پس پشت چلا گیا تھا۔
کیا بالی ووڈ نے پھر سے محبت کو گلے لگا لیا؟
صحافی کییور سیٹھا کا ماننا ہے کہ "سیّارہ” نے اس صنف کو نئی جان دی ہے۔ "لو سٹوریز کا ایک بازار ہمیشہ موجود ہوتا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں بالی ووڈ نے دل ٹوٹنے والی جذباتی فلمیں بنانا چھوڑ دیا تھا۔ ‘سیّارہ’ نے ثابت کیا کہ اگر محبت پر مبنی فلم دل سے بنائی جائے تو وہ معجزہ کر سکتی ہے۔”
ٹریڈ اینالسٹ اتل موہن بھی کہتے ہیں کہ رومانس بالی ووڈ کی بنیاد میں ہے اور اچھے موسیقی کے ساتھ بننے والی لو سٹوریز آج بھی سینما گھروں کو بھر سکتی ہیں۔ "صارفین کو حقیقت کا احساس دلانے والی فلمیں ہمیشہ کامیاب رہتی ہیں۔”
نئے رومانس کا جنم یا وقتی فیشن؟
2025 میں بالی ووڈ کو کامیاب فلموں کی شدید ضرورت ہے۔ 2024 میں ہندی فلمیں انڈین سینما کے کل ریونیو کا صرف 40 فیصد لائیں، جبکہ باقی حصہ تیلگو اور تمل فلموں نے پورا کیا۔ زیادہ تر ہندی فلمیں سیکوئل، اسپن آف یا ری میکس تک محدود رہیں۔
"سیّارہ” کے بعد اب دھرما پروڈکشنز کی "دھڑک 2” اور میڈوک فلمز کی "پرم سندری” جیسی رومینٹک فلمیں آنے والی ہیں۔ کرن جوہر بھی 2026 کے لیے اپنی فلم "تو میری میں تیرا، میں تیرا تو میری” کے ساتھ تیار بیٹھے ہیں۔
لو سٹوری کامیاب کب ہوتی ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ رومانس پر مبنی فلم کی کامیابی کے لیے دو عناصر بہت اہم ہیں: موسیقی اور مارکیٹنگ۔ اتل موہن کے مطابق، "موسیقی کہانی اور ناظرین کے درمیان جذباتی پل بناتی ہے۔ دوسری چیز مرکزی کرداروں کے درمیان کیمسٹری ہے۔”
"سیّارہ” نے ان دونوں عناصر پر توجہ دی۔ فلم کی پروموشن روایتی طریقوں کے بجائے سوشل میڈیا اور مائیکرو انفلوئنسرز پر مرکوز رہی، جو Gen-Z اور نوستالجک سنیما شائقین دونوں میں مقبول ہوئی۔
بالآخر جادو کہاں سے آتا ہے؟
سنیما کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سادہ اور دل سے سنائی جانے والی محبت کی کہانیاں ہر دور میں لوگوں کے دلوں کو چھو لیتی ہیں۔ کییور سیٹھا کہتے ہیں، "اکثر فلموں میں ہمیں یہ باور کرا دیا جاتا ہے کہ ہیرو ہیروئن ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، لیکن ان کے درمیان تعلق کیسے قائم ہوا، وہ جادو غائب ہوتا جا رہا تھا۔ ‘سیّارہ’ نے اس خلا کو پر کیا ہے۔”
کیا بالی ووڈ میں SRK دوبارہ سرسوں کے کھیتوں میں بانہیں پھیلائے نظر آئیں گے؟
شاید ہاں، شاید نہیں۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ بالی ووڈ نے محبت کو پھر سے سینما گھروں کی اسکرین پر جگہ دینا شروع کر دیا ہے۔ آنے والے وقت میں، اگر فلم ساز سچی، دل سے نکلی ہوئی کہانیاں سنائیں، تو رومانس ایک بار پھر بالی ووڈ کا سب سے بڑا اثاثہ بن سکتا ہے۔






