
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کے حالیہ دبئی سے فجیرہ تک اتحاد ریل کے سفر کے بعد ملک بھر کے شہری قومی ریل نیٹ ورک کے عوامی افتتاح کے منتظر ہیں۔ 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی اس ٹرین نے روزانہ یا ہفتہ وار طویل فاصلوں پر سفر کرنے والے افراد کے لیے امید کی نئی کرن جگا دی ہے۔
الذید کے رہائشی اور شارجہ میں رئیل اسٹیٹ کمپنی میں کام کرنے والے اشرف سلیم روزانہ کار پر سفر کرتے ہیں۔ اشرف نے کہا، "رش کے اوقات میں ٹریفک اور لمبا سفر بہت تھکا دینے والا ہوتا ہے۔ اگر ٹرین عوام کے لیے کھل گئی تو یہ سفر آسان اور بے فکری کے ساتھ طے ہوگا۔”
اشرف روزانہ الذید سے شارجہ تک تقریباً دو گھنٹے سفر کرتے ہیں۔ "کبھی کبھار ٹریفک کے باعث یہ وقت بڑھ کر ڈیڑھ گھنٹے تک پہنچ جاتا ہے، لیکن اتحاد ریل کے آغاز کے بعد یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ شیخ محمد کے ٹرین کے سفر کے بارے میں پڑھ کر امید ملی کہ جلد ہی عوام بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔”
اتحاد ریل کا مسافر نیٹ ورک ساتوں امارات کے 11 بڑے شہروں اور علاقوں کو 900 کلومیٹر طویل راستے سے جوڑے گا، جس کا ہدف 2030 تک سالانہ 3 کروڑ 60 لاکھ مسافروں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔
فجیرہ سے دبئی ہفتے میں دو بار کاروباری ملاقاتوں کے لیے سفر کرنے والے عبداللہ العلی کا کہنا ہے کہ "یہ ٹرین وقت، ایندھن اور توانائی کی بچت کرے گی۔ اب سڑک پر گھنٹوں گزارنے کے بجائے سکون سے بیٹھ کر سفر کے دوران کام کر سکوں گا۔”
عبداللہ نے کہا کہ اتحاد ریل ان افراد کے لیے نجات دہندہ ثابت ہوگا جو ڈرائیونگ نہیں کرتے۔ "میرے دفتر میں کئی لوگ ایسے ہیں جو دبئی یا ابوظہبی جانے کے لیے ہفتہ بھر پہلے منصوبہ بندی کرتے ہیں، لیکن اتحاد ریل کے بعد صرف ٹکٹ بک کرنا ہوگا اور سیدھا ٹرین میں سوار ہو کر سفر کر سکیں گے۔”
الذید کے ایک اور رہائشی نہاد سمیر، جو ہفتے میں کم از کم چار بار دبئی آتے جاتے ہیں، کا کہنا ہے کہ "کبھی کبھار صرف 20 منٹ کے کام کے لیے دبئی یا شارجہ جانا پڑتا ہے، جو کہ ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔ لیکن اتحاد ریل کے آغاز کے بعد یہ سفر میٹرو جیسا آسان ہو جائے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "میں نے پڑھا ہے کہ الذید سے دبئی تک صرف 30 منٹ لگیں گے، جیسے دبئی میٹرو پر سنٹر پوائنٹ سے بزنس بے تک کا سفر ہوتا ہے۔ میں اس ٹرین کے آغاز کا شدت سے منتظر ہوں۔”







