
خلیج اردو
دبئی: تیز رفتار ڈیجیٹل دور میں جہاں ہر رشتہ سکرین کے پیچھے تشکیل پا رہا ہے، لائکس، اسٹوری ویوز اور ایموجیز نے حقیقی گفتگو کی جگہ لے لی ہے، جس سے لوگ الجھن، جذباتی تھکن اور تنہائی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ‘ڈیٹنگ ڈے’ ایونٹ کی بانی اور میچ میکر، الا رحمۃ اللہ نے کہا کہ ڈیجیٹل روابط کی مبہم نوعیت جدید رومانس میں حقیقی تعلقات قائم کرنے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔
الا کے مطابق لوگ اکثر سوشل میڈیا پر ملنے والی توجہ جیسے کہ پوسٹس پر لائکس یا اسٹوریز دیکھنے کو حقیقی دلچسپی سمجھ بیٹھتے ہیں، جس کے نتیجے میں غلط فہمیاں اور مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ "بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ رابطہ قائم کر رہے ہیں لیکن درحقیقت وہ کچھ کہہ ہی نہیں رہے ہوتے۔ ایک لائک گفتگو نہیں ہوتی اور اکثر اس کا مطلب غلط سمجھا جاتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل خاص طور پر اس طرزِ رویہ کی عادی ہو چکی ہے۔ لوگ واضح قدم اٹھانے کے بجائے دوسروں کی اسٹوریز دیکھنے یا پوسٹس لائک کرنے جیسے محفوظ راستے اختیار کرتے ہیں۔ ڈیٹنگ ایپس پر میچ ہونے کے بعد انسٹاگرام ہینڈلز کا تبادلہ عام ہو چکا ہے، مگر اس کے بعد دونوں فریق محض خاموشی سے ایک دوسرے کی اسٹوریز لائک کرتے رہتے ہیں اور کبھی بات چیت کی ابتدا ہی نہیں ہوتی۔
الا نے کہا کہ گوسٹنگ (خاموشی اختیار کر کے غائب ہو جانا) اور غیر واضح ڈیجیٹل اشاروں نے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ "لوگوں کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ کہاں غلطی ہوئی یا آگے کیسے بڑھنا ہے۔ سوشل میڈیا پر اچانک غائب ہو جانا جذباتی اضطراب پیدا کرتا ہے۔”
الا نے زور دیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو مکمل متبادل کے بجائے رشتے بنانے کے لیے ایک ‘پُل’ کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ اگر ہم ان پلیٹ فارمز کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا نہیں سیکھیں گے تو ‘ٹاکنگ اسٹیج فتیگ’ (ابتدائی گفتگو کے مرحلے میں تھکن) کا مسئلہ بڑھتا ہی جائے گا۔
ڈیجیٹل بے چینی پر قابو پانے کا طریقہ
آسٹر کلینک کے ماہر نفسیات ڈاکٹر سلمان کریم نے کہا کہ لوگ ڈیجیٹل اشاروں پر حد سے زیادہ سوچ بچار کرتے ہیں جو اضطراب کا باعث بنتا ہے۔ "لوگ جواب نہ آنے پر پریشان ہو جاتے ہیں، پڑھنے کے نشان پر وسوسے کرتے ہیں کہ آیا بات چیت میں کوئی مطلب تھا یا نہیں۔” انہوں نے کہا کہ ‘فالو’ اور ‘ان فالو’ کرنا اب تعلقات کے اسٹیٹس سمجھے جاتے ہیں، جس سے مسترد ہونے کا خوف مزید بڑھ جاتا ہے۔
ڈاکٹر سلمان نے مشورہ دیا کہ لوگ چھوٹی سماجی بات چیت سے آغاز کریں اور پھر آہستہ آہستہ براہ راست گفتگو کی طرف بڑھیں تاکہ خود اعتمادی پیدا ہو۔ "حقیقی دنیا کی سرگرمیوں میں شامل ہو کر سماجی صلاحیتیں بڑھائیں، یہی خود اعتمادی بعد میں آن لائن تعاملات میں بھی کارگر ثابت ہوگی۔”
پہلا قدم کافی نہیں ہوتا
دبئی کی رہائشی، ریِم اے (فرضی نام) نے کہا کہ موجودہ پیچیدہ اشاروں بھرے ڈیجیٹل دور میں صرف پہلا قدم اٹھانا کافی نہیں ہوتا۔ "آج کے دور میں جب زیادہ تر بات چیت فون کے ذریعے ہوتی ہے، کسی کو جاننے کی یہ کوشش اکثر غلط فہمی پیدا کرتی ہے۔”
ریِم نے اپنے شوہر کو انسٹاگرام کے ذریعے جانا۔ ان کا تعارف اسٹوریز کے ویوز اور تبصروں کے تبادلے سے ہوا۔ ابتدا میں انہیں اپنے شوہر کا اکاؤنٹ عجیب لگا کیونکہ پروفائل پر اینائم کی تصویر تھی۔ تاہم ایک ماہ کے اندر جب دونوں نے ایک دوسرے کو بہتر طور پر جانا تو ریِم کا تاثر بدل گیا اور چند ماہ بعد دونوں نے شادی کر لی۔







