متحدہ عرب امارات

پچاس سال سے زائد کھجوریں اگانے والی اماراتی خواتین کسان، خود کفیل ہو کر گاڑیاں خریدنے لگیں

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات کی خواتین کسانوں نے کھجوروں کی کاشت میں نصف صدی سے زائد عرصہ لگا کر نہ صرف ملک کی زرعی ترقی میں کردار ادا کیا بلکہ خود کفالت کی نئی مثالیں قائم کیں۔ امنا خلیفہ القمزی کے بعد، جو پہلی اماراتی خاتون کسان تھیں، بہت سی خواتین نے اس پیشے کو اپنا کر روایتی ورثے کو زندہ رکھا اور ملکی معیشت میں اہم حصہ ڈالا۔

حکمرانوں کی جانب سے شہریوں کو دی گئی زمینوں کو خواتین نے کھیتی باڑی کے لیے استعمال کیا اور کھجوروں کی کاشت کے ذریعے اپنی پہچان بنائی۔ ان خواتین نے ہاتھوں سے کام کر کے وہ دور دیکھا جب نہ مشینیں تھیں نہ مزدور، سب کچھ خود کرنا پڑتا تھا۔

"گاڑیاں خریدی ہیں” — ام سعید کی کہانی

اماراتی کسان سریعا المہیری المعروف ام سعید، جو 52 سال سے زراعت سے وابستہ ہیں، نے بتایا کہ انہوں نے بچپن میں اپنے والد کے ساتھ جمیرہ کے کھجوروں کے باغ میں کام کرنا سیکھا۔ "میں 10 سال کی عمر میں اپنے والد کے ساتھ کھجوروں کے باغ میں جاتی تھی، کنویں سے پانی بھر کر درختوں کو سیراب کرتی، کیاریوں کی صفائی کرتی اور نئے پودے لگاتی۔ اُس وقت کوئی مشینیں یا مزدور نہیں تھے، سب کام ہم خود کرتے تھے۔”

شادی کے بعد جب وہ 25 سال کی عمر میں لیوا منتقل ہوئیں تو انہوں نے اپنی زمین خریدی اور وہاں کھجوروں کا باغ لگایا۔ "شروع میں میں نے 20 سے 30 پودے لگائے، پھر آہستہ آہستہ ان کی تعداد بڑھتی گئی۔ آج میرے پاس 800 سے زائد کھجور کے درخت ہیں۔”

ام سعید نے بتایا کہ اس زمین سے حاصل ہونے والی آمدنی نے ان کی زندگی بدل دی۔ "میرے پاس پہلے کوئی آمدن نہیں تھی، لیکن کھجوروں کی فصل نے مجھے خود کفیل بنا دیا۔ میں نے اپنی کمائی سے بچوں کی پرورش کی اور گاڑیاں خریدیں۔”

وہ اس وقت کھجوروں کی تجارت کا ایک منصوبہ چلا رہی ہیں اور دبئی ڈیٹس نمائش میں مختلف اقسام کی کھجوریں پیش کر رہی ہیں، جن میں الشیشی، خنیزی، الاخلاص، بومان اور الدبس شامل ہیں۔ ان کے پاس اس وقت دبئی اور لیوا میں دو کھجور کے فارم ہیں۔

ام علی: اگلی نسل کو کھیتی باڑی کی طرف راغب کرنے کا عزم

مریم (ام علی) نے بھی بچپن میں اپنی والدہ سے کھجوروں کی کاشتکاری سیکھی۔ "ہم گرمیوں میں کہیں نہیں جاتے تھے، کیونکہ وہ کھجوروں کا موسم ہوتا تھا۔ ہم کھجوریں صاف کرتے، تیار کرتے اور پیک کرتے تھے۔”

ام علی کے کھجوروں کے فارم میں تقریباً 300 درخت ہیں، لیکن ان کا کام اس حد تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے کھجوروں کی صفائی، پیکنگ اور فروخت کے عمل کو ایک باقاعدہ کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے۔ "ہم مقامی کسانوں سے تازہ کھجوریں خریدتے ہیں، ان کی صفائی کرتے ہیں، کوالٹی کے لحاظ سے الگ کرتے ہیں اور خوبصورت ڈبوں میں پیک کر کے فروخت کرتے ہیں۔ یہ عمل تقریباً تین ماہ جاری رہتا ہے۔”

ام علی نے بتایا کہ یہ کام آسان نہیں تھا، اس میں سخت محنت اور مستقل مزاجی کی ضرورت تھی۔ وہ دن کے چھ بجے کام شروع کرتی ہیں اور دوپہر تک جاری رکھتی ہیں، پھر وقفہ لینے کے بعد شام تین بجے سے رات نو بجے تک دوبارہ کام کرتی ہیں۔

ان کی بیٹیاں بھی ان کے ساتھ کام میں ہاتھ بٹاتی ہیں۔ ام علی نے کھجوروں کو مختلف میٹھے پکوانوں میں شامل کر کے اپنے کاروبار کو وسعت دی ہے جن میں رنگینہ، بس بوسہ، ڈیٹ کیک اور دیگر مٹھائیاں شامل ہیں۔

ام علی نے کہا کہ "آج کی لڑکیاں کھیتی باڑی اور کھجوروں کی کاشتکاری میں دلچسپی لے رہی ہیں۔ میری بیٹیاں بھی میرے ساتھ کام کرتی ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ ہماری نئی نسل اس ورثے کو زندہ رکھے۔”

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button