
خلیج اردو
دبئی: عمان میں 2 اگست کو پیش آنے والے افسوسناک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والے 70 سالہ سابق اماراتی فوجی محمد فرج کی میت آج رات (4 اگست) دبئی لائی جائے گی۔ مرحوم کی نماز جنازہ منگل، 5 اگست کو دبئی کے القصیص قبرستان میں عصر کی نماز کے بعد ادا کی جائے گی۔
مرحوم محمد فرج اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ سیاحتی مقام صلالہ جا رہے تھے کہ ان کی گاڑی مخالف سمت سے آنے والی گاڑی سے ٹکرا گئی۔ حادثے میں دوسرے ڈرائیور عمانی شہری ناصر الکندی بھی جاں بحق ہو گئے۔ ناصر ایک ریاضی کے استاد تھے اور حادثے کے وقت اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سفر کر رہے تھے۔
مرحوم کے بیٹے انصار التمیمی نے خلیج ٹائمز سے گفتگو میں الکندی خاندان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دعائیں ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں۔ محمد فرج کی بیٹی سمیحہ والد کی میت کے ہمراہ آج رات صلالہ سے پرواز کے ذریعے دبئی واپس آ رہی ہیں۔
انصار التمیمی نے کہا کہ ان کی بہن سمیحہ اپنے والد کے بہت قریب تھیں اور ان کے علاج کے دوران ہر وقت والدین کے ساتھ رہتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ والد کی تدفین سمیحہ کے لیے سب سے زیادہ کٹھن مرحلہ ہو گا۔
مرحوم کی اہلیہ 69 سالہ فاطمہ الہاشمی، جو اس حادثے میں شدید زخمی ہوئیں، عمان کے اسپتال میں زیر علاج ہیں اور ڈاکٹرز نے انہیں ہوائی سفر کے لیے غیر موزوں قرار دیا ہے۔ ان کے پسلیوں میں چوٹ آئی ہے جس کے باعث پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا۔ انصار کے مطابق ان کی بہن علیا اور بہنوئی عبداللہ اپنے دو سالہ بیٹے کے ساتھ عمان میں والدہ کے پاس رکیں گے اور امید ہے کہ فاطمہ الہاشمی آئندہ دو دن میں دبئی منتقل ہو سکیں گی۔
محمد فرج کی نماز جنازہ 5 اگست کو عصر کی نماز کے بعد القصیص قبرستان میں ادا کی جائے گی جبکہ تعزیت کے لیے ان کے گھر مردف میں خواتین کے لیے مجلس لگے گی اور مردوں کے لیے قریبی مقام پر انتظام ہو گا۔ تعزیت 5 اگست سے 7 اگست تک روزانہ دن 10 بجے سے ظہر کی اذان تک اور عصر کے بعد عشاء کی اذان تک کی جا سکے گی۔
مرحوم کے بیٹوں نے اپنی بہن سمیحہ کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ والدین کے ساتھ رہ کر ان کا ہر ممکن خیال رکھا۔ انصار التمیمی نے بتایا کہ ان کے والد ایک محب وطن فوجی تھے جنہوں نے 27 سال تک ملک کی خدمت کی اور اپنی زندگی میں تعلیم اور فیملی کی خوشحالی کے لیے کئی قربانیاں دیں۔
انہوں نے بتایا کہ محمد فرج ایک سچے فٹبال کے عاشق تھے اور دبئی کے الاهلی کلب کے جنونی مداح تھے۔ فوجی زندگی کے باوجود انہوں نے کھیلوں اور سماجی زندگی میں بھرپور حصہ لیا اور ہر دلعزیز شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔







