
خلیج اردو
دبئی: دبئی میں غیر قانونی پارٹیشنز کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد متعدد مالکان نے اپنی پراپرٹیز کی اصل حالت میں بحالی کا کام مکمل کر کے انہیں دوبارہ کرایہ پر دینا شروع کر دیا ہے۔ اب یہ مالکان سنگل بیچلرز کی بجائے چھوٹے خاندانوں اور کارپوریٹ کلائنٹس کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ قانونی تقاضوں پر پورا اتر سکیں۔
دبئی میونسپلٹی کی زیر نگرانی جون کے چوتھے ہفتے سے الامراقبات، الرفیعہ، السطوہ اور الریگہ جیسے گنجان آباد علاقوں میں غیر قانونی اور غیر منظور شدہ پارٹیشنز کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی گئیں۔ ان پارٹیشنز سے نہ صرف عمارات کی ساخت متاثر ہو رہی تھی بلکہ مکینوں کی سلامتی کو بھی شدید خطرات لاحق تھے۔
رینج انٹرنیشنل پراپرٹیز کی کنسلٹنٹ حمیرا وقاص کے مطابق، "بہت سے مالکان جو اس صورتحال سے لاعلم تھے، اب کرایہ داروں کی ایمریٹس آئی ڈی، ملازمت کی تفصیلات اور سابقہ رہائشی تاریخ کو جانچنے کے بعد ہی فلیٹس کرایہ پر دے رہے ہیں۔ وہ اب چھوٹے خاندانوں یا کارپوریٹ اسٹاف ہاؤسنگ کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ قانونی پابندیوں کی خلاف ورزی سے بچ سکیں۔”
پراپرٹی زون ریئل اسٹیٹ کی کنسلٹنٹ سواپنا ٹیک چندانی نے کہا کہ "پہلے زیادہ تر فلیٹس بیچلرز کو کرائے پر دیے جاتے تھے، تاہم اب مالکان طویل مدتی اور مستحکم رہائش کے لیے خاندانوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔”
دبئی کرایہ داری قانون کے آرٹیکل 24 کے مطابق، کسی بھی کرایہ دار کو مالک کی تحریری اجازت کے بغیر پراپرٹی سب لیٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
مالکان اب غیر قانونی پارٹیشنز کو ختم کر کے پراپرٹیز کی اصل حالت بحال کرنے پر بھی کام کر رہے ہیں۔ خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بعض مالکان غیر قانونی پارٹیشنز اور ساختی نقصان کی مرمت پر 45 ہزار درہم تک خرچ کر رہے ہیں۔ کولڈ ویل بینکر کے منیجنگ ڈائریکٹر ایمن یوسف کے مطابق، "بہت سے مالکان اپنی پراپرٹیز کو مکمل طور پر بحال کر کے دوبارہ کرایہ کی مارکیٹ میں لانے پر توجہ دے رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ "یہ بحالی کا عمل اکثر ساختی نقصان جیسے کہ چھتوں اور فرش کی مرمت پر مشتمل ہوتا ہے جو پہلے کی گئی غیر قانونی تبدیلیوں کی وجہ سے متاثر ہوئے تھے۔”







