متحدہ عرب امارات

دوہری نوکریاں: وہ یو اے ای رہائشی جو صبح دفتر اور شام ٹریڈنگ کرتے ہیں

خلیج اردو
ابوظہبی: احمد المنصوری جب سہ پہر تین بجے اپنی سرکاری نوکری ختم کرتے ہیں تو سیدھا جم کا رخ کرتے ہیں، پھر دیر سے دوپہر کا کھانا کھاتے ہیں۔ لیکن ان کے دن کا دوسرا حصہ شام کو شروع ہوتا ہے جب امریکی مارکیٹس کھلتی ہیں اور وہ اپنی ٹریڈنگ ڈیسک پر جا بیٹھتے ہیں۔ احمد جیسے کئی رہائشی اب فل ٹائم نوکری کے بعد شام کو حصص بازار میں پارٹ ٹائم ٹریڈنگ کر کے مالی آزادی کی راہ پر گامزن ہیں۔

32 سالہ احمد کا کہنا ہے، "شام 5:20 بجے میں اپنی ڈیسک پر ہوتا ہوں، کافی اور نیوز فیڈز کے ساتھ، اور اپنی واچ لسٹ چیک کرتا ہوں کہ کون سی اسٹاک میں غیر معمولی سرگرمی ہے۔” احمد نے کووڈ-19 کے دوران یوٹیوب ویڈیوز دیکھ کر ٹریڈنگ سیکھی، ابتدا میں پیپر ٹریڈنگ کی اور پھر حقیقی رقم لگائی۔

وہ زیادہ تر ٹیک اور گروتھ اسٹاکس پر فوکس کرتے ہیں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹولز کے ذریعے ریئل ٹائم خبریں اور جذباتی تجزیہ کرتے ہیں۔ "اگر کسی سی ای او نے کوئی ٹویٹ کر دی تو پورا منظر بدل جاتا ہے،” احمد نے کہا۔

احمد نے سخت اصول اپنا رکھے ہیں، ہر ٹریڈ پر صرف 1 سے 2 فیصد رسک لیتے ہیں اور سٹرکٹ سٹاپ لاسز رکھتے ہیں۔ "یہ جوئے اور پروفیشنل ٹریڈنگ کا فرق ہے کہ آپ اپنے نقصان کو کنٹرول کرتے ہیں۔”

دوسری جانب، دبئی کے کاروباری اور مارکیٹنگ کنسلٹنٹ ہرش رستوگی گزشتہ 24 سال سے ٹریڈنگ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دن بھر دفتر میں کام کرتے ہوئے ذہن کا ایک حصہ ہر وقت مارکیٹ پر لگا رہتا ہے۔ وہ امریکی مارکیٹ میں رات یا صبح کے وقت چارٹس اور مارکیٹ کنڈیشنز کا تجزیہ کرتے ہیں اور ہفتے میں صرف چند ٹریڈز پر فوکس کرتے ہیں۔ "کوالٹی اوور کوانٹیٹی” ان کا اصول ہے۔

ہرش نے واضح کیا کہ مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے وہ ٹریڈنگ کو سائیڈ بزنس کے طور پر ہی دیکھتے ہیں۔ "مارکیٹ زیادہ پیسے دیتی ہے، لیکن اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔”

راؤی پٹیل، دبئی میں 35 سالہ لاجسٹکس پروفیشنل، دن بھر کی نوکری کے بعد ٹریڈنگ ڈیسک پر بیٹھتے ہیں۔ 2017 میں دوست کے مشورے پر ٹریڈنگ شروع کی، ابتدا میں کافی نقصان ہوا لیکن پھر ایک آن لائن مینٹورشپ پروگرام کے ذریعے تکنیکی تجزیہ سیکھا۔ اب وہ اپنی تنخواہ سے زیادہ ٹریڈنگ سے کما رہے ہیں لیکن پھر بھی نوکری کو نہیں چھوڑتے۔

"گزشتہ سال میں نے تقریباً 1.8 لاکھ درہم ٹریڈنگ سے کمائے، لیکن جب مارکیٹ مخالف ہو تو یہ بہت خطرناک ہو جاتا ہے۔ ایسے مہینے بھی آئے جب میں نے 15 سے 20 فیصد نقصان اٹھایا۔” راؤی نے کہا۔

راؤی کا کہنا ہے کہ ٹریڈنگ نے انہیں ڈسپلن، صبر اور جذباتی کنٹرول سکھایا ہے۔ وہ ہر ٹریڈ کا تجزیہ کرتے ہیں، "آپ کو اپنی کارکردگی کو کسی ایتھلیٹ کی طرح مانیٹر کرنا ہوتا ہے۔ کہاں غلطی ہوئی، کہاں ہچکچاہٹ آئی، یہ سب نوٹ کرنا پڑتا ہے۔”

یہ رہائشی دن کی نوکری کے بعد اپنی دوسری دنیا میں قدم رکھتے ہیں جہاں جذبات، ڈسپلن اور سمارٹ رسک منیجمنٹ ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button