
خلیج اردو
کراچی: معروف اداکارہ و میزبان نادیہ خان نے اے آر وائی کے ڈرامہ سیریل ‘میں منٹو نہیں ہوں’ میں سجل علی اور صائمہ نور کی ڈائلاگ ڈیلیوری پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ رائٹرز کو کرداروں کے لیے اتنے کمزور جملے نہیں لکھنے چاہییں تھے۔
ڈرامے کی کہانی اور کرداروں کو شائقین کی جانب سے بھرپور پذیرائی مل رہی ہے، جس میں ہمایوں سعید اور صنم سعید نے یونیورسٹی اساتذہ کے کردار ادا کیے ہیں جبکہ سجل علی نے صائمہ نور کی بھتیجی کا کردار نبھایا ہے۔ تاہم استاد اور شاگرد کے درمیان رومانوی جملوں پر ماضی میں تنقید کا سامنا بھی ہوا ہے۔
نادیہ خان نے اپنے ایک وی لاگ میں ڈرامے کے ایک منظر پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ سجل علی کہتی ہیں: "ابو نہیں مانیں گے” تو صائمہ نور جواب دیتی ہیں: "تو منالو”، پھر سجل کہتی ہیں: "ابو ماریں گے” اور صائمہ نور کہتی ہیں: "مار کھالو”۔ نادیہ خان کا کہنا تھا کہ صائمہ نور کے کردار کو اتنے سطحی اور کمزور جملے نہیں بولنے چاہییں تھے، ان کا انداز مضبوط اور دلیل سے بھرپور ہونا چاہیے تھا۔
نادیہ خان نے براہ راست خلیل الرحمٰن قمر کا نام لیے بغیر ان پر بھی تنقید کی کہ ایسے مکالمے لکھ کر خواتین کرداروں کو کمزور دکھایا جا رہا ہے۔
نادیہ خان کے اس تبصرے پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ صارفین نے انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ہر وقت دوسروں کا مذاق اڑاتی ہیں اور خود کبھی معیاری تبصرہ نہیں کرتیں۔ بعض نے کہا کہ نادیہ خود ناکام اداکارہ رہی ہیں اور دوسروں پر تنقید کر کے خبروں میں رہنے کی کوشش کرتی ہیں۔
تاہم کچھ صارفین نے نادیہ کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ کرداروں کو مضبوط بنانے کے لیے رائٹنگ میں بہتری کی ضرورت ہے۔ کچھ نے یہ بھی لکھا کہ نادیہ خان خلیل الرحمٰن قمر کے مسلسل تیسرے ڈرامے پر تنقید کر رہی ہیں، جس سے لگتا ہے کہ دونوں کے درمیان ذاتی رنجش بھی ہو سکتی ہے۔






