
خلیج اردو
پالس (خیبر پختونخوا): پالس کے پہاڑی علاقے کی وادی لیدی میں 28 سال قبل خاندانی دشمنی کے باعث لاپتا ہونے والے نصیرالدین کی لاش گلیشیئر پگھلنے کے بعد مل گئی۔ نصیرالدین جون 1997 میں اپنی جان کے خوف سے علاقہ چھوڑ کر فرار ہو رہے تھے کہ راستے میں فائرنگ کے دوران ایک برفانی غار میں داخل ہو کر لاپتا ہو گئے تھے۔
گزشتہ ہفتے مال مویشی چرانے والے مقامی چرواہے کو نصیرالدین کی لاش ملی جو حیرت انگیز طور پر صحیح حالت میں تھی اور جیب میں موجود شناختی کارڈ سے ان کی شناخت ممکن ہوئی۔ تاہم تدفین کا مرحلہ اس وقت پیچیدہ ہو گیا جب خاندانی دشمنی، جس کے باعث نصیرالدین نے علاقہ چھوڑا تھا، اب بھی برقرار نکلی۔
علاقہ مکینوں کی ثالثی کے نتیجے میں دونوں متحارب خاندانوں کے درمیان 10 اگست تک جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تاکہ نصیرالدین کی اپنے آبائی علاقے میں تدفین ممکن بنائی جا سکے۔ بدھ کے روز تین دن کی دشوار گزار مسافت کے بعد نصیرالدین کی میت پالس پہنچی جہاں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد تدفین کر دی گئی۔
نصیرالدین کے بیٹے نعیم کا کہنا تھا کہ والد کی لاش کے ساتھ آبائی علاقے میں داخل ہونا ایک جذباتی لمحہ تھا کیونکہ دشمنی کے خوف سے وہ دن کے وقت کبھی اپنے علاقے میں نہیں آ سکے تھے۔ نعیم نے کہا کہ والد کو اپنی مٹی نصیب ہونا ایک طرح کا سکون ہے مگر جنگ بندی ختم ہونے کے بعد ہمیں واپس جانا ہو گا۔
جرگہ کے سربراہ حریف گل نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نصیرالدین کی تدفین انسانی ہمدردی کے تحت ممکن ہوئی۔ دوسری جانب کلیم الدین، جو مخالف خاندان کے سربراہ ہیں، نے اس دشمنی کو رسم و رواج کے مطابق ختم کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
اس خاندانی دشمنی کی جڑیں 40 سال پرانے ایک غیرت کے نام پر قتل کے واقعے سے جڑی ہیں جس میں نصیرالدین کے بھائی گردیز اور ایک خاتون کو قتل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوا جو تاحال جاری ہے۔ کوہستان پولیس کے مطابق نصیرالدین کی گمشدگی ایک حادثہ تھی، تاہم علاقے کی روایات اور دشمنی کی شدت نے اسے مزید پیچیدہ بنا دیا تھا۔
نصیرالدین کے بھائی کثیرالدین کے مطابق، جنہیں فائرنگ کے وقت آخری بار اپنے بھائی کے ساتھ دیکھا گیا تھا، وہ کئی برس تک مفرور رہے اور 2023 میں گرفتاری کے بعد مقدمے سے بری ہو گئے تھے۔
جرگہ کے ثالثین کے مطابق جنگ بندی صرف 10 اگست تک ہے اور اس کے بعد کسی فریق کے رویے کی کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔ تاہم مقامی عمائدین نے امید ظاہر کی ہے کہ شاید اس المیے کے بعد علاقے میں دشمنی ختم کرنے کی راہ ہموار ہو سکے۔
**Frozen in Time: Body of Man Missing for 28 Years Found in Glacier Amidst Family Feud in Kohistan**
کیا آپ چاہیں گے کہ میں اس خبر کا ایک **اداریہ (Editorial Analysis)** بھی لکھ دوں؟






