
خلیج اردو
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں ایک بار پھر موسلادھار بارش کے باعث مارگلہ کی پہاڑیوں سے آنے والے پانی نے نالوں میں طغیانی پیدا کر دی، جس کے نتیجے میں بھارہ کہو، چک شہزاد اور دیگر نشیبی علاقوں کے گھروں میں پانی داخل ہو گیا۔ نیو چٹھہ بختاور کی گلیاں اور سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں، مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا جبکہ متعدد گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں۔
رات گئے نالہ کورنگ کا پانی نشیبی علاقوں میں داخل ہو گیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے بچوں اور خواتین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ نور پور شاہان میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ایک دکان برساتی نالے میں گر گئی جبکہ کری روڈ پر سیلابی ریلے نے پل کو نقصان پہنچایا۔
راول ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہونے پر سپل ویز کھول دیئے گئے۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ندی نالوں کے اطراف آبادیوں کے تحفظ کیلئے فوری حفاظتی اقدامات کی ہدایت کر دی ہے تاکہ جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب، خیبرپختونخوا، کشمیر اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔ راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور اور سیالکوٹ میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جبکہ مری، گلیات، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا امکان بھی بڑھ گیا ہے۔






