متحدہ عرب امارات

والدین کی پہلی ترجیح تعلیم: دبئی میں رہائشی فیصلے اسکولوں کے گرد گھومنے لگے

خلیج اردو
دبئی – بڑھتے کرایوں اور بدلتی ہوئی رہائشی برادریوں کے ساتھ ساتھ، دبئی میں مقیم کئی خاندان اب اپنی زندگی کے اہم فیصلے صرف ایک بنیاد پر کر رہے ہیں: معیاری تعلیم تک رسائی۔ بڑے گھروں کو چھوڑ کر چھوٹے گھروں میں منتقل ہونا ہو یا شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے کا رخ کرنا — والدین کیلئے اسکول سب سے بڑا پیمانہ بن چکا ہے۔

’بچے پالنا اسکول سے شروع ہوتا ہے‘
اسپرنگز کے پرانے رہائشی اریجیت نندی نے بتایا کہ وہ 2012 سے اس علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔ "ہم نے اسپرنگز 7 میں 4 ایم ٹائپ ولا کے لیے تقریباً ایک لاکھ درہم سالانہ کرایہ دیا تھا، جو اب کم از کم ایک لاکھ ساٹھ ہزار درہم ہو چکا ہے۔”

ان کے بیٹے کی ابتدائی تعلیم رافلز نرسری سے شروع ہوئی جو اسپرنگز سوق کے قریب واقع ہے، اور جس کی تعمیر وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے۔ جب بیٹا اسکول جانے لگا تو ان کے نزدیک یہ علاقہ مزید پرکشش بن گیا کیونکہ قریب ہی ڈبئی انٹرنیشنل اکیڈمی ایمریٹس ہلز، ڈبئی برٹش اسکول اور ایمریٹس انٹرنیشنل اسکول میڈوز جیسے ادارے موجود ہیں۔

اریجیت کے مطابق، "کووڈ کے دوران جب پراپرٹی کی قیمتیں نیچے آئیں تو ہم نے اسی وقت سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا۔ ہم نے نئے علاقوں پر بھی غور کیا مگر میں اسپرنگز کو ہی ترجیح دیتا رہا کیونکہ یہ ایک پرانا، سرسبز اور پر سکون علاقہ ہے۔”

ان کا کہنا ہے، "جب آپ خاندان پال رہے ہوتے ہیں تو اسکول ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ ہم نے رہائش، سفر اور دیگر سہولیات میں سمجھوتہ کیا، مگر اسکول میں نہیں۔”

’ہم نے گھٹایا گھر، مگر اسکول مقدم ہے‘
برطانوی خاتون سیلی میڈیسن کا کہنا ہے کہ ان کی رہائش کا مرکز بھی بچوں کی تعلیم ہے۔ "ہم پائیدار شہر میں کئی سال مقیم رہے، جہاں بچوں کا اسکول فیئرگرین انٹرنیشنل بھی ہے۔ مگر جب ہمارے مالک مکان نے ولا فروخت کر دیا اور نئے مالک نے کرایہ 1 لاکھ 70 ہزار سے بڑھا کر 3 لاکھ 10 ہزار درہم کر دیا، تو ہمیں جانا پڑا۔”

سیلی نے پھر سرینا اور اب عربین رینچز 2 کا رخ کیا، جہاں کرایہ 2 لاکھ 10 ہزار درہم ہے۔ وہ کہتی ہیں، "ہم نے سائز میں کافی کمی کی، مگر اسکول کے قریب رہنا ہماری پہلی ترجیح ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ دیگر علاقوں جیسے ٹاؤن اسکوائر اور ایما ر ساؤتھ میں رہنے کا سوچا، مگر یا تو ٹریفک بہت زیادہ تھی یا گھر بہت چھوٹے تھے۔

’ہم نے سستی کو چُنا، مگر اسکول نہیں بدلا‘
فرانسیسی باشندہ کرسٹین لا تنت نے بھی اسپرنگز سے ڈیمک ہلز 2 منتقل ہونے کا فیصلہ مالی مجبوری کے تحت کیا، مگر بیٹی داریا کے اسکول کا انتخاب تبدیل نہ کیا۔ "ہم اسپرنگز میں 3 بیڈ روم اور اسٹڈی والا ولا ایک لاکھ 65 ہزار میں لے رہے تھے، مگر وہ اب ناقابل برداشت ہو گیا تھا۔”

انہوں نے بتایا، "اب ہم ڈیمک ہلز 2 میں 1 لاکھ 5 ہزار کرایہ دے رہے ہیں۔ داریا رافلز ورلڈ اکیڈمی میں پڑھتی ہے اور IB نصاب سے منسلک ہے، اس لیے ہم نے اسے وہاں سے نہیں نکالا۔”

کرسٹین کا کہنا تھا کہ اگرچہ اب روزانہ کا سفر 35 سے 50 منٹ کا ہے، مگر وہ وعدے پر قائم ہیں۔ "ہم نے کہا تھا کہ اسکول نہیں بدلے گا، اور ہم نے وہ وعدہ نبھایا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button