متحدہ عرب امارات

لندن میں کرسٹیز کی عربی فنونِ لطیفہ نمائش میں شامی مصور مروان قصاب باچی کو خراجِ تحسین

خلیج اردو
لندن: دنیا کے ممتاز نیلام گھر "کرسٹیز” میں عربی فنونِ لطیفہ کی سالانہ نمائش اس بار شامی نژاد مصور مروان قصاب باچی کے تخلیقی سفر کو خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے۔ ’’مروان: جلا وطنی میں روح‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والی یہ غیر فروختی نمائش ڈاکٹر رضا مومنی (کرسٹیز، مشرق وسطیٰ و افریقہ کے چیئرمین) کی زیر نگرانی ترتیب دی گئی ہے، جس میں یورپ اور مشرق وسطیٰ کے نمایاں اداروں اور نجی کلیکشنز سے لیے گئے مروان کے 150 سے زائد فن پارے پیش کیے جا رہے ہیں۔

یہ نمائش مروان کے فن کی سات دہائیوں پر محیط داستان بیان کرتی ہے، جو 1953 سے 2024 تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس میں ان کے ابتدائی جرمنی پہنچنے کے بعد کی تخلیقات بھی شامل ہیں، جب وہ تجریدی آرٹ سے جڑے، اور پھر 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں جب وہ جرمنی میں مجسمی مصوری (figurative painting) کے نمایاں ترین نمائندوں میں شامل ہوئے۔

1980، 1990 اور 2000 کی دہائیوں کی ان کی مشہور تخلیقات، جن میں ان کے روحانی رجحانات اور عرب ادیبوں کے ساتھ تعاون سے متاثرہ تصاویر، لٹھوگرافس اور کاغذی کام بھی شامل ہیں، نمائش کا حصہ ہیں۔

مروان کی مصوری میں انسانی چہرہ ایک علامتی اور نفسیاتی منظرنامہ بن جاتا ہے۔ ان کے پورٹریٹس، جنہیں وہ داخلی نقشہ (inner topography) کی شکل دیتے تھے، اور ان کی جاپانی گڑیا سے متاثرہ سیریز، گہرے رنگوں میں ڈوبی ہوئی، ناظرین کو ایک روحانی اور فکری سفر پر لے جاتی ہے۔

ان کے فن کی بنیاد صوفی فلسفے پر ہے، جو دل، روح اور وجود کی وحدت پر زور دیتا ہے۔ یہ نمائش نہ صرف ان کے فن کو دیکھنے کا موقع ہے بلکہ باطن سے گفتگو، جذب و فکر اور روحانی حیرت انگیزی کا تجربہ بھی پیش کرتی ہے۔

’’مروان: جلا وطنی میں روح‘‘ کرسٹیز کی عربی فنونِ لطیفہ سیریز کی تیسری قسط ہے، جسے جمیرا کارلٹن ٹاور ہوٹل کے اشتراک سے پیش کیا جا رہا ہے۔ جمیرا کے آرٹس اینڈ کلچر ایڈوائزر آرنو مورانڈ نے کہا کہ یہ شراکت جمیرا کے فن و ثقافت سے وابستگی اور عربی تہذیب کے فروغ کا ثبوت ہے۔

یہ تعاون اس بات کی علامت ہے کہ جمیرا ہوٹل گروپ دنیا بھر میں اپنے مقامات پر ثقافتی مکالمے، تخلیقی رابطے اور فنکارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button