
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے حکام نے سوشل میڈیا صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے مواد پر منفی، توہین آمیز یا بدنام کرنے والے انداز میں پوسٹ کرنے یا جواب دینے سے گریز کریں، چاہے وہ تحریری، آڈیو، ویڈیو یا لائیو اسٹریم ہو۔
یہ انتباہ اس پس منظر میں جاری کیا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں ایسے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں صارفین نے مواد تخلیق کرنے والوں پر ذاتی حملے یا توہین آمیز تبصرے کیے، اور اکثر یہ نہیں جانتے تھے کہ ایسا رویہ اماراتی قانون کے تحت سنگین جرم ہے۔
شارجہ پولیس کے کرمنل انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کرنل عمر احمد ابو الزود نے کہا کہ عوامی پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کو زبانی طور پر حملہ کرنے، مذاق اڑانے یا ذلیل کرنے کا حق حاصل ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ آن لائن توہین یا بدنامی کے جرم پر وفاقی ڈگری قانون نمبر 34 سال 2021، جس میں 2024 میں ترمیم کی گئی، کے تحت قید اور 2 لاکھ 50 ہزار سے 5 لاکھ درہم تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے، اور اگر یہ عمل سرکاری اہلکار کے خلاف ہو یا بڑے فالوورز والے اکاؤنٹ پر شائع ہو تو سزائیں مزید سخت ہو سکتی ہیں۔
دبئی پولیس کے سائبر کرائم ڈیپارٹمنٹ کے قائم مقام ڈائریکٹر میجر عبداللہ الشیہی نے کہا کہ چاہے پوسٹ تحریری ہو، ویڈیو، آڈیو کلپ یا لائیو اسٹریم، توہین آمیز یا بدنام کرنے والا کوئی بھی تبصرہ قانون کے خلاف ہے۔ ہر لفظ ریکارڈ ہوتا ہے، شناخت ممکن ہے اور قانونی کارروائی کا باعث بن سکتا ہے۔
دبئی کورٹس کے لیگل کنسلٹنٹ وائل عبید کے مطابق زیادہ تر آن لائن بدنامی کے مقدمات اصل پوسٹ کے بجائے صارفین کے تبصروں سے جنم لیتے ہیں، اور اگر کوئی تبصرہ ذاتی توہین، اخلاقی نقصان یا شہرت کو نقصان پہنچائے تو یہ فوجداری معاملہ بن جاتا ہے۔
اماراتی حکام نے شہریوں پر زور دیا کہ کسی بھی قسم کے مواد پر ردعمل دینے سے پہلے دو بار سوچیں، اور اگر اختلاف ہو تو اسے نظرانداز یا رپورٹ کریں، لیکن کبھی بھی گالی گلوچ یا توہین آمیز جواب نہ دیں، کیونکہ آن لائن احترام کوئی آپشن نہیں بلکہ قانون ہے۔






