
خلیج اردو
ممبئی: بالی وڈ پر ایک بار پھر ثقافتی کرداروں کو غلط انداز میں پیش کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ جنوی کپور اور سدھارتھ ملہوترا کی نئی فلم *پرَم سندری* کے ٹریلر کے بعد یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے، جس میں جنوی کپور کو ملیالی لڑکی کے کردار میں دکھایا گیا ہے۔
جنوی کپور کا لہجہ اور انداز سوشل میڈیا صارفین کے مطابق نہ صرف غیر حقیقی ہے بلکہ ملیالی ثقافت کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ انہیں روایتی ساڑھی، گجرا اور محنیاتم رقص کے ذریعے پیش کیا گیا، تاہم ان کا تلفظ اور مکالمے ملیالی زبان و ثقافت سے مطابقت نہیں رکھتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بالی وڈ نے ایک بار پھر پورے خطے کی ثقافت کو محض سادہ اور سطحی اسٹیریو ٹائپ میں بدل دیا ہے۔ اس سے قبل بھی فلم *چنئی ایکسپریس* میں دپیکا پڈوکون، *می ناکشی سندریشور* میں سانیہ ملہوترا اور *ٹو اسٹیٹس* میں عالیہ بھٹ کو جنوبی ہند کے کرداروں کے باعث شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ناقدین نے کہا کہ ہالی وڈ کی مثال سامنے ہے جہاں مختلف پس منظر رکھنے والے کرداروں کے لیے لہجہ، زبان اور ثقافتی مشاورت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس بالی وڈ میں ریسرچ کی کمی اور سستی پیشکش کی وجہ سے کردار حقیقت کے بجائے مزاحیہ پیروڈی میں بدل جاتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اب وقت آگیا ہے کہ فلم ساز غیر حقیقی نمائندگی کے بجائے ثقافتی سچائی کو اپنائیں۔ اس مقصد کے لیے ڈائلیکٹ کوچز، ماہرین اور مقامی افراد کی رائے لینا ضروری ہے۔ بصورت دیگر جنوبی بھارت اور خاص طور پر ملیالی برادری کو ہر بار سطحی انداز میں پیش کرنے کا عمل بالی وڈ کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچائے گا۔







