
خلیج اردو
واشنگٹن: یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کو ایک ذاتی لمحے میں بدل دیا، جب انہوں نے ٹرمپ کو ایک خط دیا جو اصل میں خاتون اول میلانیا ٹرمپ کے لیے تھا۔ یہ خط یوکرین کی خاتون اول اولینا زیلنسکا کی جانب سے میلانیا کے جذبۂ ہمدردی اور حمایت پر شکریہ کے طور پر لکھا گیا تھا۔
زیلنسکی نے کہا کہ یہ شکریہ اس بات پر ہے کہ میلانیا نے روس کے ہاتھوں اغوا ہونے والے یوکرینی بچوں کے مسئلے پر توجہ دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ کا سب سے کڑا انسانی المیہ ہے جہاں بچوں اور خاندانوں کو جدائی کا دکھ سہنا پڑ رہا ہے، اور میلانیا کی آواز اس مسئلے کو مزید طاقت دیتی ہے۔
یوکرین کا کہنا ہے کہ 2022 کے حملے کے بعد سے اب تک تقریباً انیس ہزار پانچ سو بچوں کو روس یا روس کے زیرقبضہ علاقوں میں لے جایا گیا ہے، جن میں سے پندرہ سو واپس لائے جا چکے ہیں۔ روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے منتقل کیا گیا۔
اسی دوران میلانیا ٹرمپ نے ولادیمیر پیوٹن کے نام ایک خط میں بچوں کی حالت زار پر توجہ دلائی۔ انہوں نے لکھا کہ دنیا کے ہر بچے کا خواب محبت، امید اور امن ہے، اور یہ کہ رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ نئی نسل کے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔ میلانیا نے پیوٹن پر زور دیا کہ وہ اپنے فیصلے سے بچوں کو والدین اور ملک کے پاس لوٹائیں۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اہلیہ بچوں سے بے حد محبت کرتی ہیں اور اس صورتحال سے دکھ محسوس کرتی ہیں۔
زیلنسکی اور ٹرمپ کی اس ملاقات کے بعد یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل سمیت کئی یورپی رہنماؤں نے بھی وائٹ ہاؤس میں شمولیت اختیار کی۔ ارسلا نے کہا کہ ہر اغوا شدہ یوکرینی بچے کو اس کے خاندان کے پاس لوٹایا جانا چاہیے۔
کیف میں عام شہریوں نے بھی اس علامتی پیغام کو سراہا۔ بزرگ شہری ویلری کرُت نے کہا کہ روسیوں نے بہت سے بچوں کو والدین اور وطن سے محروم کر دیا ہے، اور ہر یوکرینی اس درد کو محسوس کرتا ہے۔ ایک 19 سالہ طالبہ صوفیہ موراویتسکا نے کہا کہ یوکرینی بچے ہی یوکرین کا مستقبل ہیں۔







