عالمی خبریں

بھارت کے نائب صدر کا الیکشن: آر ایس ایس کا دباؤ، تمل وقار اور آندھرا کی مشکل

خلیج اردو
نئی دہلی: بھارت کے نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے اپنی مدت کے بیچ اچانک استعفیٰ دے دیا جس کے بعد حکومت اور اپوزیشن دونوں کو غیر متوقع انتخابی عمل کا سامنا ہے۔

حکومت کا امیدوار

حکومت نے مہاراشٹر کے گورنر سی پی رادھا کرشنن کو امیدوار بنایا ہے، جو آر ایس ایس اور بی جے پی کے پرانے رہنما ہیں۔ اس فیصلے کو دو زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے:

رادھا کرشنن کے انتخاب سے بی جے پی کو یہ بھی امید ہے کہ ایک تمل لیڈر ڈراویڑین جماعتوں کے لیے مشکل کھڑی کرے گا۔ تمل ناڈو کو سنگھ پریوار اب بھی “آخری محاذ” سمجھتا ہے۔

اپوزیشن کا امیدوار

اپوزیشن نے سابق سپریم کورٹ جج بی سدھرشن ریڈی کو امیدوار نامزد کیا ہے۔ وہ آندھرا پردیش سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنے کچھ لبرل فیصلوں کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی نامزدگی سے حکمراں اتحاد میں شامل تلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) مشکل میں ہے کیونکہ آندھرا فخر اور تمل وقار کی سیاست آمنے سامنے آ گئی ہے۔

نمبرز کا حساب

نائب صدر کا انتخاب لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکان کرتے ہیں — کل 782 ووٹ، جن میں جیت کے لیے 392 درکار ہیں۔ این ڈی اے کے پاس لوک سبھا میں 293 اور راجیہ سبھا میں 133 ارکان ہیں، اس لیے بی جے پی امیدوار کی فتح تقریباً یقینی ہے، بشرطیکہ ٹی ڈی پی بغاوت نہ کرے۔

سیاسی منظر

  • مودی سرکار پر یہ الزام لگ رہا ہے کہ اب وہ “حیران کن ماسٹر اسٹروک” کے بجائے روایتی فیصلوں پر اکتفا کر رہی ہے۔

  • اپوزیشن اب بھی محض ردعمل کی سیاست کرتی دکھائی دیتی ہے۔

  • حالیہ بل، جس میں 30 دن جیل میں رہنے والے وزرا یا وزرائے اعلیٰ کی برطرفی کی شق شامل ہے، پارلیمان میں ہنگامہ کھڑا کر چکا ہے۔

تجزیہ

کالم نگاروں کے مطابق گورنر، صدر اور نائب صدر جیسے عہدے ایک نوآبادیاتی ورثہ ہیں جو زیادہ تر سابق سیاستدانوں یا افسران کے لیے اعزازی مناصب بن گئے ہیں۔ ان پر عوام کا پیسہ خرچ ہوتا ہے مگر جمہوریت کو فائدہ کم ہی پہنچتا ہے۔

ان تمام تنقیدوں کے باوجود، جلد ہی بھارت کو نیا نائب صدر ملنے والا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button