خلیج اردو
ابوظہبی: 30 سالہ انس جبیحی کی زندگی 12 سال کی عمر میں ایک دھماکے نے بدل دی۔ فلسطین کے پناہ گزین کیمپ میں پرورش پانے والے انس نے ایک دستی بم کو کھلونا سمجھ کر ہاتھ لگایا جو پھٹ گیا اور اس کی ایک ٹانگ اور ایک آنکھ ضائع ہوگئی۔ برسوں تک مختلف مصنوعی اعضاء استعمال کرنے کے باوجود وہ وہ آزادی حاصل نہ کرسکا جس کی تمنا تھی۔
لیکن اب وہ چلنے پھرنے کے قابل ہے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کررہا ہے۔ یہ سب "ٹین جرنیز انیشی ایٹو” کی بدولت ممکن ہوا ہے، جو برجیل ہولڈنگز کے بانی و چیئرمین ڈاکٹر شمشیر ویالل کی 40 لاکھ درہم کی انسان دوست مہم ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایسے مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے جو اس قابل نہیں کہ مہنگی ٹیکنالوجی کے اخراجات برداشت کرسکیں۔
پچھلے تین ماہ میں اس پروگرام نے تین نوجوانوں کی زندگیاں بدل دی ہیں جبکہ مزید سات مریضوں کے آپریشن عنقریب کیے جائیں گے۔ فلسطین، امریکہ اور بھارت کے مریض ابوظہبی کے برجیل میڈیکل سٹی میں جدید مصنوعی اعضاء کے کامیاب آپریشن کراچکے ہیں۔
یہ نایاب آپریشن پروفیسر ڈاکٹر منجد المودرس کی سربراہی میں کیا گیا، جسے اوسیو انٹیگریشن کہا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار میں مصنوعی عضو کو براہِ راست ہڈی سے جوڑا جاتا ہے جس سے استحکام، سہولت اور قدرتی حرکت کی صلاحیت حاصل ہوتی ہے۔
انس نے کہا: "جب مجھے ڈاکٹر منجد کی ٹیم کا فون آیا تو میں خوشی سے سڑک پر ناچنے لگا۔ پہلی بار مجھے ایسا لگا کہ میری عزت اور دیکھ بھال کی گئی ہے۔ یہ میرے لیے زندگی بدلنے والا لمحہ تھا۔”
اسی طرح 29 سالہ جاشوا آرنلڈ امریکہ کے ریاست لوزیانا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک موٹر سائیکل حادثے میں ان کا ہاتھ اور آنکھ ضائع ہوگئی۔ مہینوں کی اذیت کے بعد ابوظہبی آکر مفت آپریشن کے ذریعے انہیں نیا مصنوعی عضو لگایا گیا۔ وہ اب بحالی کے مرحلے میں ہیں اور اپنی منگیتر کے ساتھ آئندہ سال ہنی مون کے لیے دوبارہ امارات آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
کیرالہ، بھارت کے 33 سالہ شیروں چیریان بھی اس پروگرام سے مستفید ہوئے۔ ایک حادثے میں ٹانگ ضائع ہونے کے بعد انہوں نے برسوں عصا کے سہارے زندگی گزاری۔ ابوظہبی میں آپریشن کے بعد انہوں نے کہا: "یہ پہلا موقع ہے جب مجھے اصل عزت اور خیال رکھنے کا احساس ہوا۔ اب میں اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنا چاہتا ہوں۔”
یہ انیشی ایٹو شام اور عمر نامی دو شامی بچوں کی ہمت سے متاثر ہو کر شروع کیا گیا تھا جو 2022 کے زلزلے میں زندہ بچے تھے۔ ڈاکٹر منجد کے مطابق مزید مریضوں کے کیسز کا جائزہ لیا جارہا ہے اور امسال مزید آپریشن ابوظہبی میں ہوں گے۔
UAE doctor’s Dh4-million initiative gives amputees ‘dignity’ after crash, bomb blast







