متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں نوجوانوں کی قومی خدمت کے لیے روانگی، خاندانوں کی آنکھیں نم

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں قومی خدمت کے 24ویں بیج کے نوجوان آج اپنے اپنے کیمپوں میں رپورٹ کر رہے ہیں، جس کے ساتھ ہی اس لازمی سروس پروگرام کے آغاز کو 11 سال مکمل ہو گئے۔ نوجوان اماراتی 11 ماہ کی مدت کے لیے فوجی خدمات انجام دیں گے۔

یہ ایک جذباتی منظر تھا جہاں خاندانوں نے خوشی اور فخر کے آنسوؤں کے ساتھ اپنے بیٹوں کو رخصت کیا، جو ایک منفرد سفر کا آغاز کر رہے ہیں۔ یہ دورانیہ ہائی اسکول کے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے ایک تبدیلی کی گھڑی ہے جس میں وہ فوجی زندگی کا تجربہ کریں گے اور قومی ریزرو فورس کا حصہ بنیں گے۔

خلیج ٹائمز نے سیح حفیر کیمپ کا دورہ کیا جو دبئی اور ابوظہبی کے سنگم پر واقع ہے۔ یہ کیمپ صدارتی گارڈ کی تربیت کے حوالے سے مشہور ہے اور اب نئے ریکروٹس کو قومی دھنوں کے ساتھ خوش آمدید کہا جا رہا ہے تاکہ انہیں آنے والے سفر کے لیے تیار کیا جا سکے۔

ایک کمانڈنگ آفیسر نے کہا کہ "آج ہم اپنے بیٹوں کو خوش آمدید کہتے ہیں تاکہ انہیں اپنے ملک کا دفاع کرنا اور کردار سازی سکھا سکیں۔ ہم انہیں قومی دھنوں اور والدین کے لیے خصوصی انتظامات کے ساتھ خوش آمدید کہتے ہیں تاکہ یہ واضح ہو کہ وہ محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔”

2014 میں آغاز کے بعد سے قومی خدمت کے اس پروگرام نے ہزاروں نوجوان اماراتیوں کو فوجی اور شہری تربیت کے ذریعے نظم و ضبط، برداشت اور اجتماعی ذمہ داری کا احساس دیا ہے۔

ریکروٹ زید العلوی نے کہا، "میں اس سفر کے لیے پُرجوش ہوں، میں اپنی فیملی میں پہلا فرد ہوں جو فوج میں جا رہا ہے اور یہ میرے لیے فخر کی بات ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ تجربہ مجھے بدل دے گا۔” ان کے والد نے کہا، "ہم اپنے بیٹے پر فخر کرتے ہیں، وہ وقت کی پابندی اور نظم و ضبط سیکھے گا جو اس کی زندگی اور تعلیم میں بھی معاون ہوگا۔”

دو دوست صالح العامری اور سالم العامری سب سے پہلے صبح آٹھ بجے کیمپ پہنچے۔ انہوں نے کہا، "یہ تجربہ ہمارے لیے بالکل نیا ہوگا، ہم اس کے لیے بے تاب ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ 11 ماہ تیزی سے گزر جائیں گے۔”

خولوُد خلیفہ، جن کے دوسرے بیٹے پہلے ہی فوج میں شامل ہیں، نے کہا کہ "یہ جگہ مردوں کا کارخانہ ہے، میرا بیٹا اپنے دوستوں کے ساتھ یہاں آیا ہے اور وہ محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ یہ تجربہ اس کے کردار کو نکھارے گا اور اسے اپنے خواب کے قریب لے جائے گا کہ وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ملک کی خدمت کرے۔”

والدین نے اپنے بیٹوں کو رخصت کیا اور ہاتھ ہلا کر الوداع کہا، جبکہ نوجوانوں کے لیے گیٹ کے پیچھے ایک زندگی بدل دینے والا سفر شروع ہو چکا ہے جس کے اثرات 11 ماہ بعد ظاہر ہوں گے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button