متحدہ عرب امارات

دبئی میں اونم کا تہوار اس سال روایتی حدود سے نکل کر ایک عالمی رنگ میں ڈھل گیا۔ بلیو اوشن کارپوریشن کی جانب سے منعقدہ اس شاندار تقریب میں 18 مختلف ممالک کے افراد نے اپنی ثقافتوں کے ساتھ شرکت کی

خلیج اردو
دبئی میں اونم کا تہوار اس سال روایتی حدود سے نکل کر ایک عالمی رنگ میں ڈھل گیا۔ بلیو اوشن کارپوریشن کی جانب سے منعقدہ اس شاندار تقریب میں 18 مختلف ممالک کے افراد نے اپنی ثقافتوں کے ساتھ شرکت کی۔ ان میں اماراتی، مصری، نیپالی، الجزائری، فلپائنی، شامی، تیونسی، فلسطینی اور بھارتی شامل تھے۔ ہر قوم نے اپنی روایتی پوشاک، موسیقی، رقص اور فن کے ذریعے تقریب کو رنگین بنا دیا۔

تقریب کا آغاز الجزائر کے لوک فنکاروں کے دلکش رقص سے ہوا۔ فلسطینی فنکاروں نے اپنے وطن کی یاد دلانے والا نغمہ پیش کیا جبکہ اماراتی روایتی عبایا، کندورا اور برقع میں فیشن شو کے ذریعے اسٹیج پر جلوہ گر ہوئے۔ نیپال سے آئے منوج اور الپن نے اپنی دھنوں سے سامعین کو محظوظ کیا، اور مصر کے یحییٰ ابراہیم نے عربی نغمہ گا کر دل جیت لیے۔ شام اور تیونس کے فنکاروں نے اپنے وطنوں کی یاد تازہ کرائی جبکہ فلپائنی گروپ نے روایتی ’بروٹ سیا‘ میں رقص کیا۔ بھارتی برادری نے روایتی اور جدید دھنوں پر رقص کرکے اونم کی اصل روح کو زندہ رکھا۔

تقریب میں اونم کے لازمی جزو ’سادیا‘ کا بھی اہتمام تھا جس میں سامبھر، اوال، تھوران اور پیاسام سمیت روایتی پکوان پیش کیے گئے۔ لبنانی شرکاء کے مطابق یہ دعوت صرف کھانے کا نہیں بلکہ ایک ساتھ بیٹھنے اور جڑنے کا ذریعہ تھی۔

تقریب کا مرکزی پیغام "ون اونم، ون اسپرٹ، ون فیملی” تھا۔ بلیو اوشن کارپوریشن کے گروپ سی ای او ڈاکٹر ستیا مینن نے کہا کہ ہماری طاقت ہماری عوام ہیں۔ مختلف ثقافتوں اور قومیتوں کو ایک چھت تلے لا کر ہم یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم آہنگی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تقریبات محض کلینڈر کی تاریخیں نہیں بلکہ شمولیت اور ہم آہنگی کا عملی مظاہرہ ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button