
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں سونے کی ریکارڈ بلند قیمتوں کے باوجود جیولرز نے صارفین کو ریلیف دینے کیلئے منافع کے مارجن کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد فروخت میں کمی کو روکنا اور خریداروں کیلئے زیورات کو قابلِ رسائی بنانا ہے۔
جیولرز کے مطابق ’فیئر پرائسنگ‘ کے تحت نہ صرف میکنگ چارجز کم کیے جا رہے ہیں بلکہ صارفین کو فری گولڈ کوائنز، واؤچرز اور پرائس لاک گارنٹی جیسی سہولتیں بھی دی جا رہی ہیں تاکہ وہ بلند نرخوں کے باوجود زیورات خرید سکیں۔
گزشتہ ہفتے دبئی میں سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جہاں 24 قیراط سونا 440.5 درہم فی گرام اور 22 قیراط 408 درہم فی گرام تک جا پہنچا۔ اختتامِ ہفتہ پر قیمتوں میں معمولی کمی ہوئی اور 24 قیراط 438.75 درہم جبکہ 22 قیراط 406.25 درہم فی گرام پر فروخت ہوا۔
مالابار گولڈ اینڈ ڈائمنڈز کے منیجنگ ڈائریکٹر شملال احمد کا کہنا ہے کہ کمپنی صارفین کو ویلیو دینے پر توجہ دے رہی ہے تاکہ وہ قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے باوجود اعلیٰ معیار اور ڈیزائن کے ساتھ خریداری کر سکیں۔
لیالی جیولری کے منیجنگ ڈائریکٹر انوراگ سنہا نے کہا کہ متعدد جیولرز نے میکنگ چارجز میں 25 فیصد یا اس سے زیادہ کمی کردی ہے۔ ان کے مطابق 20 گرام کے ایک ہار پر صرف میکنگ چارجز میں کمی سے ہی صارفین سینکڑوں درہم بچا سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کچھ ریٹیلرز زیرو میکنگ چارجز، فری گولڈ ایکسچینج اور ویک اینڈ سیلز کے دوران خصوصی ڈسکاؤنٹس بھی فراہم کر رہے ہیں تاکہ گاہکوں پر مالی بوجھ کم ہو۔
ٹائٹن کمپنی کے انٹرنیشنل جیولری بزنس کے سربراہ آدتیہ سنگھ نے کہا کہ جیولرز طویل المدتی کسٹمر ٹرسٹ کو فوری منافع پر ترجیح دے رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے قیمتوں کو مسابقتی بنانے کے ساتھ معیار اور ڈیزائن پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
یہ اقدامات صارفین کو بلند ترین قیمتوں کے باوجود سونا خریدنے میں مدد دے رہے ہیں، جبکہ جیولرز کیلئے کاروبار کو مستحکم رکھنے کا ذریعہ بھی بن رہے ہیں۔







