
خلیج اردو
یروشلم: ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے منگل کے روز بتایا کہ اسرائیل نے غزہ سٹی پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے زمینی آپریشن کے مرکزی مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کے اعلیٰ سفارتکار مارکو روبیو نے یروشلم میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات میں کہا کہ واشنگٹن اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔
اہلکار کے مطابق آپریشن اس وقت ’’ابتدائی مراحل‘‘ میں ہے اور اسرائیلی فوج بتدریج غزہ سٹی میں مزید فوجی بھیجے گی۔ اندازہ ہے کہ غزہ سٹی کے تقریباً 40 فیصد مکین پہلے ہی جنوبی حصے کی طرف منتقل ہو چکے ہیں۔
اہلکار نے کہا کہ غزہ سٹی میں حماس کے ہزاروں جنگجو موجود ہیں اور اسرائیل ’’جتنا وقت درکار ہو‘‘ آپریشن جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ اسرائیلی فوجی غزہ سٹی کے مرکز کی طرف بڑھ رہے ہیں، اور مقصد یہ ہے کہ آپریشن کو ’’جلد از جلد مگر محفوظ طریقے‘‘ سے مکمل کیا جائے تاکہ فوجیوں، شہریوں اور یرغمالیوں کی جانوں کا تحفظ ہو۔
اہلکار نے مزید بتایا کہ اسرائیل غزہ میں بالخصوص جنوبی علاقے میں انسانی ہمدردی کے آپریشنز کو وسعت دے رہا ہے۔ ساتھ ہی اسرائیل نے اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ غزہ میں ’’نسل کشی‘‘ کی جا رہی ہے۔
اس سے قبل منگل کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں ایک ’’اہم‘‘ فوجی کارروائی شروع کر دی ہے۔
Israel launches major phase of Gaza City ground operation amid US backing







