متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کے بڑھتے ہوئے بجلی کے استعمال کے باوجود مصنوعی ذہانت پائیدار رہ سکتی ہے

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں منعقدہ "جرنی ٹو نیٹ زیرو – یو اے ای 2025” کانفرنس کے دوران ماہرین نے کہا ہے کہ اگرچہ ڈیٹا سینٹرز کو چلانے کے لیے بڑی مقدار میں توانائی درکار ہوتی ہے جس سے کاربن کے اخراج میں اضافہ ہوتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے پائیدار بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ کانفرنس خلیج ٹائمز کے زیراہتمام دبئی میں ہوئی۔

اس موقع پر نوکیا مشرق وسطیٰ و افریقہ کے ہیڈ آف ڈیٹا سینٹر اسٹیفانو ریزی نے کہا کہ ڈیٹا سینٹرز توانائی زیادہ استعمال کرتے ہیں لیکن یہ مجموعی طور پر توانائی کے استعمال اور کاربن فوٹ پرنٹ میں کمی لانے میں بھی مددگار ہیں۔ انہوں نے کووڈ-19 کے دوران تیل اور گیس کے استعمال میں کمی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن کے سفر نے کاربن اخراج کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

ال مساعود پاور کے جنرل مینیجر راسو بارٹنشلاگر نے کہا کہ آئندہ پانچ برسوں میں ڈیٹا سینٹرز کی تعداد دو سے تین گنا بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کی طلب میں ڈرامائی اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں اس وقت 10 ہزار 709 ڈیٹا سینٹرز موجود ہیں جن میں سے 57 یو اے ای میں ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ چونکہ یو اے ای میں مستحکم حکومت اور بجلی کی فراہمی میں تسلسل موجود ہے، اس لیے یہاں پائیدار ڈیٹا سینٹرز کی طرف پیش رفت کے مواقع زیادہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ یو اے ای میں قابل تجدید توانائی کے منصوبے تیزی سے سامنے آ رہے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد اس رفتار سے نہیں ہو رہا جو سننے کو ملتا ہے، خاص طور پر جب بات ڈیٹا سینٹرز کو بجلی کی فراہمی کی ہو۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button