
خلیج اردو
منیلا: فلپائن میں مختلف تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جن افراد پر کرپشن کے الزامات عائد ہیں، ان کے اثاثے فوری طور پر منجمد کیے جائیں۔ اسی سلسلے میں دارالحکومت منیلا میں 21 ستمبر کو بڑے پیمانے پر دو احتجاجی مظاہرے ہوں گے جن میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شریک ہوں گے۔
یہ تاریخ علامتی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہی دن سابق صدر فرڈینینڈ مارکوس سینئر کے مارشل لا کے نفاذ کی 53 ویں برسی ہے، جسے فلپائنی عوام ایک سیاہ دور کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
صدر فرڈینینڈ "بونگ بونگ” مارکوس جونیئر نے بھی عوامی غصے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن برداشت نہیں کی جائے گی اور کسی کے لیے بھی استثنیٰ نہیں ہوگا۔ انہوں نے عوام سے پرامن احتجاج کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ صدر نہ ہوتے تو شاید خود بھی عوام کے ساتھ سڑکوں پر نکل آتے۔
پہلا احتجاج صبح 9 بجے لونیٹا پارک میں ہوگا جس کی قیادت ڈیوڈ سان خوان اور ان کی تنظیم "تاؤمبایان آیاو سا مگناناکاؤ ات ابوسادو نیٹ ورک الائنس (TAMA NA)” کرے گی۔ سان خوان نے اس موقع کو "پروٹیسٹ اور پکنک” کا امتزاج قرار دیتے ہوئے عوام کو چھتریاں اور کھانے پینے کا سامان ساتھ لانے کی دعوت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ کرپٹ سیاستدانوں کو مکمل احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے، اثاثوں کی تفصیلات ظاہر کی جائیں اور سرکاری افسران بینک سیکریسی سے استثنیٰ کی دستاویزات پر دستخط کریں۔
اسی روز دوپہر 2 بجے دوسرا احتجاج "ٹرلین پیپل مارچ” کے نام سے پیپل پاور مونومنٹ، کیوزون سٹی میں ہوگا جس میں چرچ کے رہنما، تعلیمی ادارے، سول سوسائٹی اور سابق حکام سمیت 15 ہزار سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔ منتظمین نے مقامی حکام کے ساتھ سکیورٹی اور لاجسٹکس کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے۔
چرچ رہنما بشپ کولن باگافورا نے شرکاء کو سفید لباس پہننے کی ترغیب دی جو اتحاد اور امید کی علامت ہوگا۔ دوسری جانب منتظمین کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کے مختلف حصوں میں علیحدہ احتجاج عوامی سہولت کے لیے ہیں لیکن توقع ہے کہ بالآخر دونوں ریلیاں "پیپل پاور مونومنٹ” پر یکجا ہوں گی۔
اکبایان پارٹی لسٹ کے رکن اسمبلی پرسی سینڈانا نے کہا کہ عوام کا غصہ انتہا کو پہنچ چکا ہے اور یہ مظاہرے کرپشن کے خلاف عوامی جدوجہد کا سنگ میل ثابت ہوں گے۔
یاد رہے کہ ہر سال 21 ستمبر کو فلپائن میں مارشل لا کے خلاف احتجاج کیا جاتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس دور میں ایک لاکھ سات ہزار سے زائد افراد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شکار ہوئے، جن میں ہزاروں کو قتل، گرفتار اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہی پس منظر اس سال کے احتجاج کو مزید اہمیت دیتا ہے۔







