
خلیج اردو
دبئی: نالج اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (KHDA) نے دبئی میں بڑھتی ہوئی تعلیمی فیسوں سے متعلق والدین کے خدشات کے پیشِ نظر ایک نئی حکمت عملی کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت معیاری تعلیم کو کم قیمت پر دستیاب بنانے کے لیے سماجی خدمت پر مبنی سرمایہ کاروں کو راغب کیا جائے گا اور حکومتی معاونت فراہم کی جائے گی۔
یہ اہم اقدام کے ایچ ڈی اے کی ڈائریکٹر جنرل عائشہ عبداللہ میران نے بدھ کے روز دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں منعقدہ محمد بن راشد لیڈرشپ فورم 2025 میں پیش کیا۔ انہوں نے کھلے الفاظ میں اعتراف کیا کہ دبئی میں تعلیمی اخراجات عوامی گفتگو اور سوشل میڈیا پر مستقل موضوع بنے ہوئے ہیں۔
عائشہ میران نے کہا: "تعلیم کا ذکر آتے ہی سب سے پہلے مہنگے اخراجات ذہن میں آتے ہیں۔ حال ہی میں ایک غیر ملکی والدہ نے مجھے پیغام دیا کہ دبئی میں اس کے بچوں کی تعلیم پر ایک ملین درہم خرچ ہوئے۔ اسی بنیاد پر ہم نے حکمت عملی میں اچھی تعلیم کو مناسب قیمت پر فراہم کرنے پر توجہ دی ہے۔”
نئی پالیسی کا بنیادی مقصد ایسے تعلیمی سرمایہ کاروں کو دبئی کی مارکیٹ میں لانا ہے جن کا مقصد منافع کمانا نہیں بلکہ سماجی اہداف کا حصول ہو۔ اس کے لیے حکومت رعایتی کرایوں پر زمین اور مناسب قیمتوں پر پلاٹس فراہم کرے گی تاکہ سماجی شعور رکھنے والے تعلیمی منصوبے آگے بڑھ سکیں۔
حکمت عملی میں اربن پلاننگ کو بھی شامل کیا گیا ہے جس کے تحت اسکولوں کی تعمیر، عملے کی رہائش، آپریشنل اخراجات اور تعلیمی معیار کے دیگر تقاضوں کو یکجا کر کے پائیدار تعلیمی ماڈلز تیار کیے جائیں گے۔
عائشہ میران نے کہا کہ دبئی میں تعلیمی شعبے نے عالمی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن اب بھی مزید بہتری کی ضرورت ہے تاکہ دبئی دنیا کے بہترین دس مقامات میں شامل ہو سکے۔ ان کے مطابق ہدف یہ بھی ہے کہ خطے کے 50 فیصد انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس کو دبئی کی جانب متوجہ کیا جائے۔
یہ جامع حکمت عملی مختلف اداروں کے تعاون اور مربوط منصوبہ بندی پر مبنی ہے۔ نئے اقدامات مرحلہ وار لاگو کیے جائیں گے اور ایگزیکٹو کونسل کی منظوری کے بعد دبئی کا تعلیمی ڈھانچہ مزید متوازن، معیاری اور قابلِ استطاعت ہو گا۔







