
خلیج اردو
دبئی: بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو کی بیٹنگ فارم ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئی، جب وہ جمعہ کو سری لنکا کے خلاف سپر فورز میچ میں ناکام ہو کر پویلین لوٹ گئے۔ کپتانی سنبھالنے کے بعد ان کی مسلسل ناکامیاں مداحوں اور ماہرین کے لیے تشویش کا باعث بن گئی ہیں۔
جولائی 2024 میں روہت شرما کے ریٹائرمنٹ کے بعد یادو نے ٹی ٹوئنٹی کی کپتانی سنبھالی، لیکن اس کے بعد سے وہ اپنی جارحانہ بیٹنگ انداز کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کی آخری بڑی اننگز اکتوبر 2024 میں بنگلہ دیش کے خلاف سنچری اور حیدرآباد میں 75 رنز کی جارحانہ باری تھی، جس کے بعد بڑی اننگز ان سے روٹھ گئی ہیں۔
اعداد و شمار بھی ان کی گرتی ہوئی فارم کی عکاسی کرتے ہیں۔ کپتان بننے کے بعد 21 میچوں کی 19 اننگز میں انہوں نے صرف 329 رنز بنائے ہیں، اوسط 19.35 کے ساتھ، اور محض دو نصف سنچریاں اسکور کی ہیں۔ رواں سال 2025 میں ان کی پرفارمنس اور بھی خراب رہی، جہاں 10 اننگز میں انہوں نے صرف 99 رنز جوڑے، اوسط 12.37 اور بہترین اسکور 47 ناٹ آؤٹ رہا۔
ایشیا کپ 2025 میں بھی ان کی کارکردگی متاثر کن نہیں رہی، پانچ اننگز میں محض 71 رنز، اوسط 23.66 اور اسٹرائیک ریٹ 100 کے قریب رہا۔ سری لنکا کے خلاف میچ میں انہوں نے 12 گیندوں پر 13 رنز بنائے اور وانندو ہسرنگا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔
اب جبکہ بھارت فائنل میں پہنچ چکا ہے، کپتان پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے کہ وہ اپنی بیٹنگ فارم دوبارہ حاصل کریں اور پاکستان کے خلاف ہائی وولٹیج فائنل میں قیادت کا حق ادا کریں۔






