متحدہ عرب امارات

وہ میرا سب کچھ تھا‘: یو اے ای کی ڈاکٹر کا لبنان میں شہید صحافی بھائی کے غم میں بیان

خلیج اردو
دبئی: یو اے ای کی رہائشی ڈاکٹر عبیر عبداللہ نے لبنان میں اپنے صحافی بھائی عصام عبداللہ کی شہادت پر جذباتی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ "وہ میرا سب کچھ تھا، میرا ساتھی، میرا بہترین دوست۔ اب بھی ایسا لگتا ہے جیسے میرا کوئی حصہ کٹ گیا ہے اور وہ درد آج بھی موجود ہے۔”

عصام عبداللہ، رائٹرز کے ایوارڈ یافتہ صحافی اور فلم میکر تھے، جو 2023 میں جنوبی لبنان میں اسرائیلی فورسز اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں کی کوریج کرتے ہوئے ایک اسرائیلی ٹینک کے فائر میں شہید ہوگئے۔ ان پر داغے گئے 120 ملی میٹر کے دو گولوں میں سے ایک نے انہیں نشانہ بنایا، جس سے وہ موقع پر جاں بحق اور چھ دیگر صحافی زخمی ہوئے۔

دبئی میں مڈل ایسٹ نارتھ افریقہ ٹراما الائنس (MENATA) کی کانفرنس کے دوران ڈاکٹر عبیر نے صحافیوں پر جنگی رپورٹنگ کے نفسیاتی اثرات پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی تھراپی کے ذریعے یہ حقیقت قبول کرنا مشکل ہے کہ اب وہ اپنے بھائی سے کبھی رابطہ نہیں کر سکتیں۔

ورچوئلی لندن سے شریک بی اے ایف ٹی اے اور ایمی ایوارڈ یافتہ غزہ کے صحافی یوسف حماش نے بتایا کہ "سب سے زیادہ تکلیف دہ لمحہ وہ ہے جب میں لندن میں محفوظ بیٹھا ہوں اور میری ٹیم غزہ میں بھوک، پیاس اور بمباری کا شکار ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ ان کا کام ایک طرف ذمہ داری ہے اور دوسری طرف ان کے لیے ایک طرح کا "کوپنگ میکنزم”۔

پینل کے ایک اور رکن اور ایمی ایوارڈ یافتہ شامی صحافی مغیرہ الشریف نے کہا کہ جنگی علاقوں میں رپورٹنگ کرنے والے صحافی اکثر "ناقابلِ دید زخم” لے کر واپس آتے ہیں، جو نہ صرف انہیں بلکہ ان کے خاندان کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے صحافیوں کے لیے ابتدائی نفسیاتی اور پیشہ ورانہ مدد انتہائی ضروری ہے۔

سیشن کے دوران اسٹیج پر ایک خالی کرسی اور پریس جیکٹ رکھ کر ان 270 سے زائد صحافیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا جو 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں اسرائیلی حملوں میں شہید ہو چکے ہیں۔

ڈاکٹر عبیر نے مزید بتایا کہ ان کے بھائی نے ترکی میں زلزلہ متاثرین، یوکرین، شام اور مصر میں خطرناک حالات میں رپورٹنگ کی لیکن لبنان جیسے نسبتاً محفوظ ملک میں ایک عام دن ان کے لیے موت لے آیا۔ انہوں نے کہا: "یہ سب سے بڑا دھوکہ ہے کہ صحافیوں کو تحفظ کے بجائے جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔”

سیشن کے اختتام پر صحافیوں کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے ایک منٹ سے زیادہ دیر تک کھڑے ہو کر تالیاں بجائی گئیں اور کئی شرکا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button