متحدہ عرب امارات

نئے افق: جی او سی کا ’گولڈ پروگرام‘ مزدوروں کے مستقبل کو بدلنے لگا

خلیج اردو
دبئی: لاجسٹکس ڈرائیور محمد اسحاق خان کے لیے دفتر میں کام کرنے کا خواب کبھی حقیقت نہ بن سکا تھا۔ ثانوی تعلیم کے بعد نہ انگریزی زبان پر عبور تھا اور نہ ہی کمپیوٹر چلانے کی صلاحیت، اس لیے وہ اپنی زندگی سڑکوں پر گزارنے پر مجبور تھے۔ مگر ان کے ادارے گرین اویسس جنرل کانٹریکٹنگ (جی او سی) نے اپنے کارکنوں کے لیے سیکھنے اور ترقی کا راستہ کھول دیا۔

جی او سی کے سی ای او محمد ایاد کے مطابق، ’’ہم جانتے تھے کہ ہمارے بہت سے ملازمین کو کبھی تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا۔ زندگی نے انہیں کم عمری میں ذمہ داریوں کے بوجھ تلے ڈال دیا، جہاں انہیں اپنے خاندان کی کفالت کے لیے سخت محنت کرنا پڑی۔‘‘

اسی سوچ نے کمپنی کی انتظامیہ کو اپنے کارکنوں کو دوسرا موقع دینے کی ترغیب دی، جس کے نتیجے میں گرین اویسس لرننگ اینڈ ڈیولپمنٹ (گولڈ) پروگرام کا آغاز ہوا۔ یہ پروگرام اُن کارکنوں کے لیے مفت کلاسز فراہم کرتا ہے جنہیں رسمی تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا۔

2019 سے، ہر ہفتے کے آخر میں جی او سی کے عملے کی جانب سے کارکنوں کو انگریزی اور بنیادی کمپیوٹر مہارتیں سکھائی جاتی ہیں۔ کمپنی نے تعلیمی مواد سے لے کر نقل و حمل تک، تمام سہولیات فراہم کر کے سیکھنے کے عمل کو آسان اور کام کے تسلسل کے مطابق بنایا ہے۔

تعلیم کے ذریعے بااختیار بننا

گزشتہ چھ برسوں میں جی او سی کا ’گولڈ پروگرام‘ ایک سماجی عزم کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس نے درجنوں مزدوروں کی زندگیاں بدل دی ہیں۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے محمد اسحاق خان اُن ابتدائی شرکاء میں شامل تھے جنہوں نے مفت تعلیم کا موقع حاصل کیا۔ آج وہ انتظامی عملے کا حصہ ہیں اور اپنے کیریئر میں مزید ترقی کے لیے پُرعزم ہیں۔

اسی طرح عبدالرحمن، جو پہلے مزدور تھے، اب اکاؤنٹس اسسٹنٹ بن چکے ہیں جبکہ وشنو کنوجیہ، جو پائپ فٹر کے طور پر کام کرتے تھے، اب پے رول اسسٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

کمپنی کے مطابق تربیت یافتہ ملازمین میں خود اعتمادی، نظم و ضبط اور مہارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ’’وہ اب ایک بہتر زندگی بنانے کے لیے زیادہ پُرجوش ہیں اور کمپنی کے لیے زیادہ وفادار اور محنتی ہو گئے ہیں،‘‘ محمد ایاد نے کہا۔

اب تک تقریباً 52 کارکنان یہ پروگرام مکمل کر چکے ہیں، جبکہ 23 مزید تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

مسلسل ترقی کا عزم

جی او سی کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام وبا کے دوران بھی جاری رہا کیونکہ کمپنی کا یقین ہے کہ کارکنوں کی مسلسل ترقی ہی ادارے کی اصل طاقت ہے۔ ’’ہماری وابستگی محض ذمہ داری نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے جو مسلسل سیکھنے اور بااختیار بنانے پر مبنی ہے،‘‘ ایاد نے کہا۔

اب کمپنی اس پروگرام کو جدید بنانے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز، خصوصاً مصنوعی ذہانت پر مبنی تربیتی نظام متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔

اپنے کارکنوں کی امنگوں کو حقیقت میں بدلنے اور اعلیٰ معیار کے تعمیراتی منصوبے مکمل کرنے کی جدوجہد نے جی او سی کو تعمیراتی صنعت کے ساتھ ساتھ تعلیم و ترقی کے میدان میں بھی ممتاز مقام دلایا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button