خلیجی خبریںمتحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں اب تمام تقریبات میں صرف ویکسین لگوانے والے افراد ہی شریک ہو سکیں گے

خلیج اردو: امارات کی نیشنل کرائسز اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی نے متحدہ عرب امارات میں تقریبات سے متعلق اہم شرط کا اعلان کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق NCEMA نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ سے تقریبات میں صرف وہی لوگ شرکت کر سکیں جنہوں نے ویکسین لگوا رکھی ہو گی یا پھر کلینیکل ویکسین کے ٹرائلز میں شمولیت اختیار کی ہو گی۔
حکام کے مطابق مملکت میں تمام ثقافتی، سماجی، کھیلوں کی اور فنون لطیفہ کی تقریبات پر اس نئی شرط کا اطلاق ہوگا۔ ان تقریبات میں شرکت کے موقع پر پی سی آ رٹیسٹ کی نیگیٹو رپورٹ دکھانی بھی لازمی ہو گی جسے جاری ہوئے 48 گھنٹوں سے زائد وقت نہ گزرا ہو۔ NCEMA کی جانب سے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی تقریب میں شرکت کرنے والے افراد کا الحوسن ایپ پر E کا حرف یا گولڈ سٹار ظاہر ہونا چاہیے جس سے ان کے ویکسین لگوانے کا پتا چلتا ہے۔

تقریبات سے متعلق ان نئی شرائط کا اطلاق6 جون سے ہوگا۔اتھارٹی کے مطابق یو اے ای کی 78 فیصد آبادی کو ویکسین کی پہلی یا دوسری خوراک لگا دی گئی ہے۔ جبکہ 60 سال سے زائد زائد عمر کے افراد اور کمزور مدافعت والوں کی 84.59 فیصد آبادی کو ویکسین لگائی گئی ہے۔ یو اے ای نے مملکت میں مقیم افراد میں کورونا کے خلاف جسمانی مدافعت بڑھانے کے لیے اہم فیصلہ کیا ہے جس کے تحت جو افراد کوروناویکسین کی دونوں خوراکیں لگوا چکے ہیں، انہیں دوسری خوراک لگوانے کے چھ ماہ بعد ایک اورخوراک دی جائے گی ۔

یو اے ای ہیلتھ سیکٹر کی سرکاری ترجمان ڈاکٹر فریدہ الحوسنی نے بتایا ہے کہ ویکسین کی تیسری خوراک زیادہ تر بزرگ افراد اور دائمی امراض کے شکار لوگوں کو لگائی جائے گی۔ اس فیصلے کا مقصد لوگوں کو کورونا کی وبا سے ممکنہ حد تک محفوظ رکھنا ہے۔ بین الاقوامی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ کورونا ویکسین کی لگائی گئی دو خوراکیں چھ ماہ تک جسم میں مدافعت قائم رکھتی ہیں۔ اس کے بعد مدافعت میں کمی آنے لگتی ہے جس کو دوبارہ بڑھانے کے لیے بزرگ افراد اور دائمی امراض کے شکار لوگوں کو تیسری خوراک کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ کیونکہ ان میں مدافعت تیزی سے ختم ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button