خلیج اردو آن لائن:
متحدہ عرب امارات کے پبلک پراسیکیوشن کے محکمے کی جانب سے حال ہی میں شہریوں سوشل میڈیا پر توہین آؐمیز پوسٹ کرنے اور کمنٹس کرنے کے خطراناک نتائج کے حوالے سے وارننگ جاری کی گئی ہے۔
وارننگ میں کہا گیا ہے جو رہائشی سوشل میڈیا پر توہین آمیز اور کسی کو بدنام کرنے والی پوسٹس کرتے ہیں انہیں قید کی سزا اور ڈھائی لاکھ درہم سے 5لاکھ درہم تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے بنائے گئے 2020 کے قانون نمبر 5 کی دفعہ 20 کے تحت اگر کوئی شخص ٹیلی کام نیٹ ورک کا استعمال کرتے ہوئے کوئی جرم کرتا ہے تو اسے سزا دی جا سکتی ہے۔
متحدہ عرب امارات میں سائبر کرائم کے اعداد و شمار:
دبئی پولیس کے مطابق 2019 میں سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر ہونے والے مقدمات پر میں اضافہ ہوا ہے۔
پولیس کے مطابق 2019 میں سوشل میڈیا قوانین کی خلاف ورزیوں کی 512 شکایت رپورٹ ہوئی تھیں، 2018 میں ایسی شکایات کی تعداد 357 تھی جبکہ 2017 میں ان کیسز کی تعداد 392 تھی۔
سوشل میڈیا پر کونسے کام جرم کے زمرے میں آتے ہیں؟
سوشل میڈیا پر کیے جانے جرائم میں
- آن لائن ہراسمنٹ،
- بھتہ خوری،
- دھمکیاں دینا اور بلیک میل کرنا،
- جھوٹی یا غلط معلومات شائع کرنا یا پھیلانا،
- دوسروں کی پرائیویسی میں دخل دینا،
- گالم گلوچ پر مبنی کمنٹ کرنا یا پھیلانا،
- جعلی اشتہارات اور افواہوں کو شائع کرنا،
- کسی کی بدنامی کرنا اور دوسروں کو جعل سازی اور جرائم پر اکسانا شامل ہیں۔
خیال رہے کہ اپریل 2019 میں ابوظہبی کے اٹارنی جنرل کی جانب سے دو افراد کو سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی ویڈیو شائع کرنے پر گرفتاری کا حکم دیا تھا، یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی اور اسنے عوامی اخلاقیات کو ٹھیس پہنچائی تھی۔
یاد رکھا جائے کہ یہ سزائیں کسی بھی ویب سائٹ یا دیگر آن لائن ذرائع کو چلانے والے شخص پر نافذ العمل ہیں جس کی ویب سائٹ یا کسی اور پلیٹ فارم سے غیر اخلاقی یا غیر قانونی مواد شائع یا شیئر ہوا ہے۔
اٹارنی جنرل کا مزید کہنا تھا کہ عوام کو سوشل میڈیا پر ویڈیوز یا دیگر مواد شیئر کرتے ہوئے ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے اور قوانین پر عمل کرنا چاہیئے کیونکہ بچے اور نوجوان سوشل میڈیا پر بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
ابوظہبی پبلک پراسیکیوشن کا سوشل میڈیا صارفین کو تنبیہ کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ عوامی اخلاقیات کو ٹھیس پہنچانے والے ایسے جملے، سائن، تصویریں، ٹیکسٹ، ویڈیو یا آڈیو بھی قابل گرفت جرم ہے۔
https://www.instagram.com/p/CGQQnPZpdbs/?utm_source=ig_web_copy_link
Source: Gulf News






